Read in English  
       
Public Health

حیدرآباد: بی آر ایس کے ورکنگ صدر کے ٹی راماراؤ نے منگل کے روز خیرت آباد کے ابراہیم نگر میں بستی دواخانہ اور آنگن واڑی سینٹر کا دورہ کیا۔
انہوں نے طبی عملے سے ملاقات کی اور ادویات، آلات اور سہولتوں کی صورتحال کا جائزہ لیا۔

ایک خاتون ڈاکٹر نے کے ٹی آر کو بتایا کہ عملے کو چار ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی ہیں اور حکومت فنڈز کی تقسیم میں رکاوٹیں پیدا کر رہی ہے۔
کے ٹی آر نے آنگن واڑی مرکز میں بچوں سے ملاقات کی اور ان میں مٹھائیاں تقسیم کیں۔

بستی دواخانوں کی زبوں حالی پر شدید تنقید | Public Health

میڈیا سے گفتگو میں کے ٹی آر نے کہا کہ بی آر ایس حکومت نے شہری غریبوں کے لیے 450 بستی دواخانے قائم کیے تھے تاکہ بنیادی صحت سہولتیں مفت فراہم کی جا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ “ان مراکز میں مفت ٹیسٹ اور علاج فراہم کیے جاتے تھے، مگر موجودہ حکومت نے ان خدمات کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا ہے۔”

کے ٹی آر نے الزام لگایا کہ دواخانوں میں ادویات ختم ہو گئی ہیں اور عملہ مہینوں سے تنخواہوں سے محروم ہے۔
انہوں نے کہا، “یہ واضح ثبوت ہے کہ ریونت ریڈی اور ان کی حکومت کو عوامی صحت کی کوئی پرواہ نہیں۔”

اسپتالوں کی تعمیر ادھوری، سیاست میں کرپشن کے الزامات | Public Health

کے ٹی آر نے کہا کہ بی آر ایس حکومت نے حیدرآباد میں چار ٹی آئی ایم ایس اسپتال قائم کیے تھے، جن میں سے 90 فیصد کام ہمارے دور میں مکمل ہوا، مگر موجودہ حکومت باقی 10 فیصد بھی مکمل نہ کر سکی۔

انہوں نے کانگریس پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ “اے آئی سی سی اب ’آل انڈیا کرپشن کمیٹی‘ بن چکی ہے۔”
کے ٹی آر نے سوال اٹھایا کہ “دانم ناگیندر کس پارٹی سے جیتے اور کس پارٹی کے لیے مہم چلا رہے ہیں؟”

انہوں نے منحرف ایم ایل ایز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسپیکر کے سامنے کچھ اور جبکہ عوام میں کچھ اور دعوے کرتے ہیں۔
“کیا انہیں ذرا بھی شرم نہیں؟” کے ٹی آر نے سوال کیا۔

کے ٹی راماراؤ کے بیانات نے تلنگانہ میں عوامی صحت کے نظام اور سیاسی اخلاقیات پر نئی بحث کو جنم دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بی آر ایس عوامی فلاحی اداروں کی بحالی اور صحت کے نظام کو دوبارہ مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔