Women Mobility Center

حیدرآباد ۔ جوگولامبا گدوال ضلع کے گٹو منڈل میں خواتین کے لیے قائم کیے گئے ویمنز موبیلیٹی سینٹر کا افتتاح کرتے ہوئے ضلع کلکٹر رضوان باشا شیخ نے کہا ہے کہ خواتین کو بااختیار بنانا دراصل خاندان، برادری اور پورے سماج کو مضبوط بنانے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر خواتین کو نقل و حرکت، مہارت اور معاشی خودمختاری کے مواقع دیے جائیں تو اس کے اثرات صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے معاشرے کی سمت بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

یہ مرکز خواتین فیڈریشن کی عمارت میں سوسائٹی فار ایلیمینیشن آف رورل پاورٹی کے تحت اور مووو رضاکارانہ تنظیم کے تعاون سے قائم کیا گیا ہے۔ اس موقع پر گدوال کے رکن اسمبلی بندلہ کرشنا موہن ریڈی بھی موجود تھے، جبکہ مقامی خواتین، فیڈریشن کے ارکان اور متعلقہ افسران نے پروگرام میں شرکت کی۔

ضلع کلکٹر نے کہا کہ حکومت اس بات کے لیے پُرعزم ہے کہ خواتین زندگی کے ہر شعبے میں آگے بڑھیں اور قیادت کا کردار سنبھالیں۔ انہوں نے خواتین پر زور دیا کہ وہ دستیاب ہر موقع سے فائدہ اٹھائیں، نئی مہارتیں سیکھیں اور مختلف شعبوں میں اپنی موجودگی مضبوط کریں تاکہ وہ محض فائدہ اٹھانے والی نہیں بلکہ تبدیلی لانے والی قوت بن سکیں۔

مہارت، ڈرائیونگ اور خوداعتمادی کی نئی راہ | Women Mobility Center

رضوان باشا شیخ نے اس اقدام کو تلنگانہ میں اپنی نوعیت کا پہلا مرکز قرار دیتے ہوئے کہا کہ خواتین فیڈریشن نے اس منصوبے کے لیے 4 برقی اسکوٹر، 1 آٹو رکشا اور 1 سائیکل خریدی ہے۔ ان گاڑیوں کے ذریعے نوعمر لڑکیوں اور خواتین کو ڈرائیونگ کی تربیت دی جائے گی تاکہ وہ نہ صرف سڑک پر خودمختار ہوں بلکہ روزگار کے نئے راستوں تک بھی پہنچ سکیں۔

انہوں نے کہا کہ نقل و حرکت صرف سفر کی سہولت نہیں بلکہ آزادی، خوداعتمادی اور معاشی امکانات کا دروازہ بھی ہے۔ اسی لیے انہوں نے خاندانوں سے اپیل کی کہ وہ خواتین کو ڈرائیونگ سیکھنے، نئی مہارتیں اپنانے اور متبادل روزگار کے مواقع تلاش کرنے میں بھرپور تعاون دیں۔

پروگرام کے دوران ایک خاتون تربیت یافتہ نے آٹو رکشا چلایا جبکہ ضلع کلکٹر اور رکن اسمبلی اس میں بطور مسافر سوار ہوئے۔ یہ منظر محض ایک علامتی سرگرمی نہیں تھا بلکہ اس کے ذریعے خواتین کی صلاحیتوں پر اعتماد کا اظہار کیا گیا اور یہ پیغام دیا گیا کہ اگر موقع اور تربیت ملے تو خواتین روایتی حدود سے نکل کر نئی ذمہ داریاں سنبھال سکتی ہیں۔

کلکٹر نے کہا کہ ہر وہ خاتون جو کوئی عملی مہارت حاصل کرتی ہے، وہ اپنے مستقبل کی سمت خود متعین کرنے کی طاقت بھی حاصل کر لیتی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ فیڈریشن کی رکن خواتین ان گاڑیوں کو کرایے پر دے کر پائیدار آمدنی بھی حاصل کر سکتی ہیں، جس سے یہ منصوبہ تربیت کے ساتھ ساتھ آمدنی پیدا کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔

پسماندہ خاندانوں کی مدد اور جامع روزگار کا منصوبہ | Women Mobility Center

رضوان باشا شیخ نے خواتین کے سیلف ہیلپ گروپس کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دھان کی خریداری اور دیگر سماجی سرگرمیوں میں نمایاں قیادت کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان کے مطابق یہی گروپس دیہی معیشت اور مقامی تنظیم سازی کی بنیاد بن رہے ہیں، اس لیے حکومت ان کی صلاحیتوں کو مزید وسعت دینا چاہتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گٹو منڈل کو تلنگانہ اِنکلو سیو لائیولی ہڈ پروگرام کے تحت منتخب کیا گیا ہے کیونکہ یہ ضلع کے سب سے پسماندہ علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ اسی تناظر میں انتظامیہ نے یہاں غربت، محدود روزگار اور کمزور معاشی مواقع جیسے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے خصوصی مداخلت کا فیصلہ کیا ہے۔

اس پروگرام کے تحت 14 دیہات میں 1,033 خاندانوں کی نشاندہی کی گئی ہے تاکہ انہیں ترجیحی بنیادوں پر مدد فراہم کی جا سکے۔ انتظامیہ ان اہل خاندانوں کو سرکاری فلاحی اسکیموں، سبسڈی والے بینک قرضوں اور روزگار کے مواقع سے جوڑے گی تاکہ امداد محض وقتی سہارا نہ بنے بلکہ معاشی بحالی کا مستقل راستہ کھلے۔

خواتین کو تلنگانہ کی سماجی اور معاشی ترقی میں فعال شراکت دار بنانا مقصود | Women Mobility Center

کلکٹر نے کہا کہ حکومت کا مقصد صرف مالی مدد دینا نہیں بلکہ خاندانوں کو معاشی طور پر خودکفیل بنانا ہے۔ ان کے مطابق اگر گھرانے مستقل آمدنی، ہنر اور ادارہ جاتی مدد کے ساتھ آگے بڑھیں تو غربت کے دائرے کو توڑنا زیادہ ممکن ہو جاتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ویمنز موبیلیٹی سینٹر دراصل اسی وسیع حکومتی وژن کا حصہ ہے جس کے تحت خواتین کو تلنگانہ کی سماجی اور معاشی ترقی میں فعال شراکت دار بنانا مقصود ہے۔ اس لیے اس مرکز کو محض ڈرائیونگ ٹریننگ کی سہولت کے طور پر نہیں بلکہ خواتین کی خوداعتمادی، نقل و حرکت، روزگار اور قیادت کی سمت ایک عملی قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یوں گٹو میں قائم یہ مرکز خواتین کی نقل و حرکت اور معاشی شمولیت کے درمیان ایک نیا ربط قائم کرتا دکھائی دیتا ہے۔ اگر یہ ماڈل کامیاب رہتا ہے تو نہ صرف مقامی خواتین کے لیے روزگار اور خودمختاری کے مواقع بڑھیں گے بلکہ یہ تلنگانہ کے دیگر پسماندہ علاقوں کے لیے بھی ایک قابل تقلید نمونہ بن سکتا ہے۔