Voter Verification
حیدرآباد: حکومتی مشیر محمد علی شبیّر نے جمعرات کو اپیل کی ہے کہ ایس آئی آر ووٹر نظرثانی کے عمل کو مؤثر بنانے کے لیے دیہی، وارڈ اور بوتھ سطح پر خصوصی ٹیمیں تشکیل دی جائیں جو گھر گھر جا کر ووٹروں کی تصدیق کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی کے دوران اس بات کو یقینی بنایا جانا چاہیے کہ کوئی بھی اہل ووٹر فہرست سے باہر نہ رہ جائے۔
شبیّر علی نے یہ اپیل کاماریڈی میں اپنی رہائش گاہ پر ایس آئی آر عمل کے تحت اپنے ووٹر اندراج کی تکمیل کے بعد کی۔ اس موقع پر حکام نے ان کی رجسٹریشن انچارج ایڈیشنل کلکٹر کی نگرانی میں مکمل کی، جبکہ اس عمل کو انتخابی نظرثانی کے ایک عملی مرحلے کے طور پر پیش کیا گیا۔
جمہوریت میں ووٹ کے حق کو سب سے قیمتی حق قرار | Voter Verification
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے محمد علی شبیّر نے ووٹ کے حق کو جمہوریت کے سب سے قیمتی حقوق میں سے ایک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کی بنیاد اسی اصول پر قائم ہے کہ ہر اہل شہری کو اپنا نمائندہ منتخب کرنے کا مساوی حق حاصل ہو، اس لیے ووٹر فہرستوں کی درستگی اور شفافیت جمہوری نظام کی ساکھ سے براہ راست جڑی ہوئی ہے۔
انہوں نے کانگریس قائدین، پارٹی کارکنوں، سرپنچوں، وارڈ ممبران، کونسلروں، بوتھ لیول ایجنٹس اور بوتھ لیول افسران سے بھی اپیل کی کہ وہ اس پورے عمل کے دوران باہمی تال میل کے ساتھ کام کریں۔ ان کے مطابق اگر سیاسی نمائندے اور انتخابی عملہ مقامی سطح پر فعال رابطہ رکھیں تو ووٹر فہرستوں کی نظرثانی زیادہ جامع اور مؤثر انداز میں مکمل کی جا سکتی ہے۔
حقیقی ووٹرز کے تحفظ اور جعلی اندراجات کے اخراج پر زور | Voter Verification
شبیّر علی نے کہا کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا اور سرکاری مشینری کی ذمہ داری ہے کہ وہ نظرثانی کے عمل کو مکمل شفافیت کے ساتھ انجام دے۔ ان کے مطابق ہر قدم ایسا ہونا چاہیے جو عوام کے اعتماد کو مضبوط کرے اور یہ یقین دلائے کہ انتخابی فہرستیں کسی سیاسی یا انتظامی مداخلت کے بجائے قانونی اور جمہوری اصولوں کے تحت تیار کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ اہل اور حقیقی ووٹروں کے نام انتخابی فہرستوں سے نہیں ہٹائے جانے چاہئیں۔ تاہم، اس کے ساتھ ساتھ ڈپلیکیٹ اور نااہل اندراجات کی شناخت کر کے انہیں حذف کرنا بھی ضروری ہے، تاکہ انتخابی عمل مزید شفاف اور قابل اعتماد بن سکے۔
گھر گھر مہم، بوتھ سطح پر جانچ اور نوجوان ووٹرز کے اندراج کی ہدایت | Voter Verification
محمد علی شبیّر نے کانگریس قائدین اور کارکنوں سے کہا کہ وہ ہر گھر تک پہنچیں اور بوتھ سطح پر ووٹر فہرستوں کی جانچ کریں۔ انہوں نے مزید زور دیا کہ 18 برس یا اس سے زیادہ عمر کے ہر نوجوان مرد اور خاتون کو بطور ووٹر اندراج میں مدد فراہم کی جائے، تاکہ کوئی بھی نیا اہل ووٹر محض معلومات یا رہنمائی کی کمی کے باعث اپنے حق سے محروم نہ رہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک کی مختلف ریاستوں میں ووٹر فہرستوں سے متعلق جمہوری حلقوں نے خدشات ظاہر کیے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ حکام اور سیاسی جماعتیں دونوں چوکس رہیں۔ ان کے مطابق انتخابی فہرستوں کی حرمت اور درستگی کا تحفظ صرف ایک انتظامی ضرورت نہیں بلکہ جمہوری اعتماد کی بنیادی شرط ہے۔
ہر ووٹ کی مساوی قدر اور انتخابی شفافیت کا مطالبہ | Voter Verification
شبیّر علی نے کہا کہ جمہوریت میں ہر ووٹ کی یکساں اہمیت ہوتی ہے اور حق رائے دہی کا تحفظ ہر سیاسی جماعت اور ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ ان کے مطابق نہ کوئی اہل ووٹر فہرست سے باہر رہنا چاہیے اور نہ ہی ڈپلیکیٹ یا نااہل ووٹ برقرار رہنے چاہئیں، کیونکہ شفاف انتخابی عمل کے لیے دونوں پہلوؤں پر یکساں توجہ ضروری ہے۔
پروگرام میں کانگریس قائدین، عوامی نمائندوں، بوتھ لیول ایجنٹس، پارٹی کارکنوں اور حکام نے شرکت کی۔ اس موقع پر ایس آئی آر ووٹر نظرثانی کو صرف ایک تکنیکی عمل نہیں بلکہ انتخابی شفافیت، شہری حقوق اور جمہوری شرکت کے ایک وسیع تر فریم ورک کے طور پر پیش کیا گیا۔
