Read in English  
       
HILT Policy

حیدرآباد ۔ ریاستی نائب وزیر اعلیٰ بھٹی وکرامارکا نے HILT پالیسی کے نفاذ کا جائزہ لیتے ہوئے واضح کیا کہ حکومت جمہوری طریقہ اپنائے گی اور شہر و ریاست کی ترقی کو ترجیح دے گی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ تمام فیصلے مشاورت کے بعد کیے جائیں گے تاکہ ہر فریق کی رائے شامل ہو۔ مزید برآں انہوں نے متوازن ترقی کے عزم کو دہرایا۔

پس منظر میں، جمعہ کے روز سیکریٹریٹ میں ریونیو وسائل کے حصول سے متعلق کابینہ ذیلی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں این اتم کمار ریڈی، ڈی سریدھر بابو اور جوپلی کرشنا راؤ سمیت سینئر حکام نے شرکت کی۔ اسی دوران صنعتی علاقوں کے نمائندوں نے بھی شرکت کرتے ہوئے اپنی تجاویز پیش کیں۔

صنعتی تبدیلی اور اراضی کا استعمال | HILT Policy

بھٹی وکرامارکا نے بتایا کہ بعض اسٹیک ہولڈرز نے آلودگی پھیلانے والی صنعتوں کو آؤٹر رنگ روڈ سے باہر منتقل کرنے کی تجویز دی ہے تاکہ قوانین پر مکمل عمل ہو سکے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ حکومت تمام آرا کا جائزہ لینے کے بعد ہی کوئی حتمی فیصلہ کرے گی۔ مزید یہ کہ انہوں نے مربوط ترقی پر زور دیا۔

انہوں نے UDL پالیسی کے تحت اراضی کی ترقی میں مرکز، ریاست اور صنعتی شراکت داروں کے اشتراک کو ضروری قرار دیا۔ اسی طرح آؤٹر رنگ روڈ اور ریجنل رنگ روڈ کے درمیان صنعتی پارکس کے قیام کی تجاویز کا بھی خیرمقدم کیا گیا۔ چنانچہ حکومت اس معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھانا چاہتی ہے۔

صنعتی ترقی اور ماحولیاتی توازن | HILT Policy

وزیر ڈی سریدھر بابو نے کہا کہ حکومت کا مقصد آلودگی سے پاک صنعتی ترقی کو فروغ دینا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پالیسی میں صنعتی علاقوں میں مزدوروں کے لیے رہائشی سہولیات کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ دریں اثنا صنعتی نمائندوں نے کنورژن چارجز پر تشویش ظاہر کی۔

مزید برآں انہوں نے نفاذ کے لیے مزید وقت اور یوٹیلٹی ٹرانسفر اخراجات میں رعایت کا مطالبہ کیا۔ دوسری جانب حکام کو ہدایت دی گئی کہ ریاست بھر میں خالی، قبضہ شدہ اور دستیاب اراضی کا مکمل ڈیٹا تیار کیا جائے۔ اسی دوران رجسٹریشن محکمہ کو مئی کے پہلے ہفتے سے نئی مارکیٹ ویلیوز نافذ کرنے کی ہدایت دی گئی۔

آخر میں، بھٹی وکرامارکا نے وسائل کے حصول سے متعلق فیصلوں پر سختی سے عمل درآمد کی تاکید کی اور کسی بھی قسم کی غفلت پر خبردار کیا۔ لہٰذا حکومت ترقی اور شفافیت دونوں کو ساتھ لے کر چلنے کی حکمت عملی اختیار کر رہی ہے۔