حیدرآباد: تلنگانہ میں بلدیاتی انتخابات میں 42 فیصد بی سی ریزرویشن کے مطالبے پر ہفتہ کے روز ریاست گیر بی سی جے اے سی بند کامیابی سے جاری رہا۔
بی سی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے دیے گئے اس بند کو مختلف سیاسی جماعتوں اور سماجی تنظیموں کی وسیع حمایت حاصل ہوئی۔
سیاسی و سماجی حمایت | Nallakunta
کانگریس، بی آر ایس، بی جے پی، سی پی آئی، سی پی ایم، ٹی جے ایس اور سی پی آئی (ایم ایل) نیو ڈیموکریسی جیسی جماعتوں نے بند کی حمایت کی۔
اسی طرح مالا مہاناڈو، ایم آر پی ایس، آدیواسی، اقلیتی اور طلبہ تنظیموں نے بھی اس تحریک سے اظہارِ یکجہتی کیا۔
عوامی تنظیموں اور دانشوروں نے بھی بی سی ریزرویشن کے مطالبے کو منصفانہ قرار دیتے ہوئے بند کی کامیابی کو سراہا۔
نلّاکنٹہ میں تشدد | Nallakunta
حیدرآباد کے نلّاکنٹہ علاقے میں اس وقت کشیدگی پھیل گئی جب کچھ احتجاجیوں نے بند کے باوجود کھلے رہنے والے تجارتی مراکز پر پتھراو کیا۔
مشتعل مظاہرین نے باجاج شوروم اور رگھوویندرا ٹفن سینٹر پر سیمنٹ کے بڑے بلاک پھینکے، جس سے شیشے ٹوٹ گئے اور املاک کو نقصان پہنچا۔
اسی دوران ایک پٹرول پمپ پر بھی حملہ کیا گیا، جہاں مظاہرین نے مشینیں توڑ دیں اور ایندھن کی فراہمی میں رکاوٹ ڈالی۔
اس واقعے سے مقامی دکانداروں اور رہائشیوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
پولیس کی کارروائی اور امن بحالی | Nallakunta
پولیس فوراً موقع پر پہنچ گئی اور مظاہرین کو منتشر کر کے صورتِ حال پر قابو پا لیا۔
مزید ہنگاموں سے بچنے کے لیے حساس علاقوں میں اضافی نفری تعینات کی گئی۔
افسران کے مطابق، حیدرآباد کے واقعے کے باوجود ریاست کے دیگر حصوں میں بند پُرامن رہا۔
بی سی بند نے تلنگانہ بھر میں سماجی انصاف کے مطالبے کو اجاگر کر دیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ حکومت جلد ہی بی سی ریزرویشن سے متعلق قانونی اور انتظامی پہلوؤں پر غور کرے گی۔
