حیدرآباد: تلنگانہ کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس بی شیو دھر ریڈی نے کہا کہ ٹی-سیف خواتین کے سفر کی حفاظت میں اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ زیادہ تر موجودہ نظام صرف ہنگامی وقت میں سرگرم ہوتے ہیں، جبکہ ٹی-سیف ہر سفر کے آغاز سے ہی نگرانی شروع کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ سہولت اسمارٹ فون کے بغیر بھی استعمال کی جا سکتی ہے۔
ریڈی نے یہ بات رائے پور، چھتیس گڑھ میں منعقدہ ڈی جی پی کانفرنس کے دوران ’’ٹی-سیف – خواتین کے لئے محفوظ سفر‘‘ کی پیشکش کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ قومی خاندانی صحت سروے 2022 کے مطابق تلنگانہ میں کام کرنے والی خواتین کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ اسی ضرورت کے پیشِ نظر ریاست نے 2024 میں ٹی-سیف متعارف کرایا تاکہ خواتین کی حفاظت کو بہتر بنایا جا سکے۔
نظام کی کامیابی |Women Safety
ڈی جی پی نے بتایا کہ پلیٹ فارم خودکار رائیڈ ٹریکنگ کے ذریعے 42 اقسام کی روٹ تبدیلیوں کا پتہ لگاتا ہے۔ یہ تاخیر، تصدیقی کال کا جواب نہ ملنا، غیر معمولی سفر کا وقت اور غلط پاس کوڈ جیسی صورتحال پر بھی فوری ایکشن لیتا ہے۔ کسی بھی انحراف کی صورت میں قریبی پٹرول گاڑی یا موٹر سائیکل فوراً صارف کی سمت روانہ ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس سہولت کو خواتین نے 5 میں سے 4.7 درجہ دیا ہے۔ پولیس ٹیمیں اب تک 350 سے زائد آگاہی پروگرام منعقد کر چکی ہیں تاکہ استعمال اور سمجھ بوجھ میں اضافہ ہو۔ انہوں نے اعلان کیا کہ محکمہ اس نظام کو مزید توسیع دے گا اور اس کی حفاظتی خصوصیات کو مزید مضبوط کرے گا۔
خواتین کا اعتماد | Women Safety
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ نظام روزمرہ کے سفر کو محفوظ بنانے کے لئے بنا ہے۔ شرکا نے بتایا کہ ٹی-سیف کا مقصد صرف ہنگامی ردعمل نہیں بلکہ مکمل پیشگی حفاظتی نگرانی فراہم کرنا ہے۔ ان کے مطابق بڑھتا ہوا اعتماد اس پلیٹ فارم کی کامیابی کا واضح ثبوت ہے۔
تلنگانہ پولیس کا مؤقف ہے کہ خواتین کی سہولت اور حفاظت ریاستی پالیسی کا اہم ستون ہے۔ اس مقصد کے لئے ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال جاری رہے گا، جبکہ آگاہی پروگراموں کے ذریعے مزید شہروں اور اضلاع میں اس سہولت کو عام کیا جائے گا۔
