حیدرآباد: کانگریس کے سینئر رہنما اور تلنگانہ حکومت کے مشیر محمد علی شبیر نے کہا ہے کہ ریاست میں مسلمانوں کی حقیقی بااختیاری صرف مضبوط سیاسی نمائندگی سے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ جب تک فیصلہ سازی کے مراکز میں مناسب حصہ داری نہیں ہوگی، تب تک مسائل کا پائیدار حل ممکن نہیں ہو سکتا۔
آل مائنارٹی ایمپلائز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے نئے سال کے کیلنڈر کی رسمِ اجرا کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کی آبادی میں مسلمانوں کا تناسب تقریباً 15 فیصد ہے۔ اسی بنیاد پر سیاسی اور عوامی اداروں میں بھی متناسب نمائندگی دی جانی چاہیے تاکہ جمہوری توازن برقرار رہے۔
انہوں نے 2004 میں متعارف کرائی گئی 4 فیصد ریزرویشن پالیسی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے 22 لاکھ سے زائد معاشی طور پر کمزور مسلم خاندانوں کو فائدہ پہنچا۔ اس پالیسی کے نتیجے میں بڑی تعداد میں مسلم طلبہ کو ایم بی بی ایس جیسے پیشہ ورانہ کورسز میں داخلہ ملا، جبکہ سرکاری ملازمتوں میں بھی یہی کوٹہ نافذ کیا گیا، سوائے ان ادوار کے جب عدالتی رکاوٹیں سامنے آئیں۔

بی سی ای کے ذریعے سیاسی شمولیت | Minority Representation
محمد علی شبیر نے وضاحت کی کہ بی سی ای زمرے میں شمولیت کے بعد مسلمانوں کو پسماندہ طبقات کے لیے مختص نشستوں سے انتخاب لڑنے کا موقع ملا۔ اس کے نتیجے میں سینکڑوں مسلم نمائندے منتخب ہو کر سامنے آئے، جن میں سرپنچ، زیڈ پی ٹی سی اور ایم پی ٹی سی ارکان، کارپوریٹرز، کونسلرز، میئرز اور ضلع پریشد چیئرپرسنز شامل تھے۔
انہوں نے کہا کہ اس سیاسی شمولیت نے مسلمانوں کو نہ صرف مقامی سطح پر آواز دی بلکہ پالیسی سازی اور عوامی خدمات کی فراہمی میں بھی مؤثر کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کیا۔ اسی تسلسل میں کوآپریٹو اداروں اور زرعی مارکیٹ کمیٹیوں میں بھی مسلم قیادت کو نمائندگی ملی۔
آئینی پس منظر اور سیکولر سیاست | Minority Representation
ماضی کے اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے محمد علی شبیر نے بتایا کہ ملک کا پہلا اقلیتی فلاحی محکمہ ان کے دورِ وزارت میں قائم کیا گیا تھا۔ اس اقدام کے بعد اقلیتی فلاح کے لیے الگ بجٹ کی راہ ہموار ہوئی، جس سے لاکھوں افراد کے لیے ہدفی پالیسیاں نافذ کی جا سکیں۔
انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ سیکولر قیادت کی حمایت جاری رکھیں اور نمائندگی کے ہدف پر توجہ مرکوز رکھیں۔ ان کے مطابق بعض سیاسی قوتیں انتظامی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے فرقہ وارانہ موضوعات کو ہوا دیتی ہیں۔ انہوں نے وندے ماترم سے متعلق حالیہ بحث کو اسی تناظر میں مثال کے طور پر پیش کیا۔
انہوں نے تاریخی پس منظر واضح کرتے ہوئے بتایا کہ دستور ساز اسمبلی نے جنوری 1950 میں وندے ماترم کو قومی نغمہ اور جن گن من کو قومی ترانہ تسلیم کیا تھا، اور اتفاقِ رائے کے تحت وندے ماترم کے صرف ابتدائی دو بند اپنائے گئے۔ ان کے مطابق موجودہ ریاستی حکومت سیکولر اور جامع طرزِ حکمرانی پر قائم ہے، جہاں ہر طبقے کو مساوی حقوق اور نمائندگی حاصل ہے۔
