حیدرآباد: تلنگانہ کے وزیراعلیٰ اے ریونت ریڈی نے بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے نام پر غریب اور اقلیتی طبقات کو نشانہ بنا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس عمل کا مقصد پسماندہ شہریوں کو ووٹنگ کے حق سے محروم کرنا ہے۔ ان کے مطابق یہ ایک بڑی سازش کا حصہ ہے۔
گاندھی بھون میں کانگریس کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے خبردار کیا کہ اگر کسی کا نام ووٹر فہرست سے خارج ہوا تو اسے راشن کارڈ، آدھار اور سرکاری فلاحی اسکیموں سے بھی محرومی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کے بقول اس پورے عمل کے اثرات انتہائی سنگین ہوں گے۔
ووٹر فہرست پر اعتراضات | Voter Rights
ریونت ریڈی نے دیہی روزگار پالیسی پر بھی مرکزی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کی متعارف کردہ مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی اسکیم اس وقت ملک کی اسی فیصد آبادی کو فائدہ پہنچا رہی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ مودی حکومت اس اسکیم کو ختم کر کے نیا قانون لانا چاہتی ہے، جس سے بڑے کارپوریٹ گروپس کو فائدہ ہوگا۔ ان کے مطابق کم اجرت پر مزدوروں کی خدمات لینے سے دیہی محنت کشوں کی عزت اور معاشی تحفظ ختم ہو جائے گا۔
گرام سبھا کی ہدایت | Voter Rights
وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگر بی جے پی کو چار سو نشستیں ملیں تو آئین میں ترمیم کی کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے راہل گاندھی اور ملکارجن کھرگے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ دونوں قائدین نے ملک گیر رابطہ مہم کے ذریعے عوام کو خبردار کیا ہے۔
ریونت ریڈی نے پارٹی کارکنوں کو ہدایت دی کہ بیس جنوری سے تیس جنوری کے درمیان تلنگانہ کے ہر گاؤں میں گرام سبھائیں منعقد کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ان اجلاسوں میں مرکزی حکومت کے نئے روزگار قانون کے خلاف قراردادیں منظور کی جائیں گی، جبکہ وزرا اور ارکان اسمبلی اپنے اپنے حلقوں کی نگرانی کریں گے۔
انہوں نے وی بی جی رام جی اسکیم کو مبہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ ’ترقی یافتہ بھارت‘ کے دعوے سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ان کا کہنا تھا کہ کانگریس منریگا کی مکمل بحالی تک جدوجہد جاری رکھے گی۔
آنے والے بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے انہوں نے اعلان کیا کہ فروری کی تین تاریخ سے نو اضلاع میں بڑے پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے گرام پنچایت اور بلدیاتی انتخابات میں مضبوط کارکردگی دکھائی ہے۔
آخر میں ریونت ریڈی نے اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ راہل گاندھی کو وزیراعظم بنایا جانا چاہیے۔ ان کے بقول تلنگانہ، مودی کو شکست دینے کے لیے پوری طاقت کے ساتھ کانگریس کے ساتھ کھڑا رہے گا۔
