Forensic Investigation
حیدرآباد ۔ شہر کے پولیس کمشنر وی سی سجنار نے جمعرات کو حیدرآباد میں 2 بہنوں کی موت کے معاملے میں جامع تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ واقعے کی اصل وجہ کا تعین فارنسک اور طبی معائنے کے ذریعے کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی نتیجے پر پہنچنے سے قبل مکمل اور سائنسی بنیادوں پر تفتیش ضروری ہے۔
کمشنر نے تفتیشی حکام کو ہدایت دی کہ متوفیہ لڑکیوں کے اندرونی اعضا کے نمونے محفوظ رکھے جائیں اور ماہر ڈاکٹروں کی آراء بھی حاصل کی جائیں۔ مزید برآں انہوں نے زور دیا کہ تمام شواہد اور طبی رپورٹس سامنے آنے تک تحقیقات جاری رکھی جائیں۔
واقعے کے بعد تحقیقات میں تیزی | Forensic Investigation
پولیس کے مطابق وائی جناتھ اور اندوماتھی، جو اصل میں بیدر کے رہائشی ہیں اور اس وقت وٹل واڑی میں مقیم ہیں، نے اتوار کی شام اپنے 4 بیٹیوں کے ساتھ آم کھائے تھے جو ایک رشتہ دار گھر لایا تھا۔
اس کے کچھ ہی دیر بعد خاندان کے افراد میں قے اور دست جیسی علامات ظاہر ہوئیں۔ چنانچہ انہیں علاج کے لیے کاواڈی گوڑہ کے ایک نجی اسپتال میں داخل کرایا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ جوڑے کی تیسری بیٹی بھونیشوری، عمر 17 سال، پیر کے روز دوران علاج دم توڑ گئی۔ تاہم منگل کو سب سے چھوٹی بیٹی سندھیا کی بھی موت ہو گئی۔
حکام کے مطابق خاندان کی 2 دیگر بیٹیاں اب مستحکم حالت میں ہیں جبکہ ایک اور لڑکی کا علاج ابھی جاری ہے۔ اسی دوران اہل خانہ اور مقامی افراد واقعے کی اصل وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔
سائنسی اور طبی رپورٹس کا انتظار | Forensic Investigation
نارائن گوڑہ پولیس نے واقعے کے سلسلے میں مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ مزید برآں تفتیشی افسران مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ موت کی اصل وجہ سامنے آ سکے۔
حکام نے بتایا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق فارنسک جانچ اور طبی معائنوں کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ دونوں بہنوں کی موت کس وجہ سے واقع ہوئی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ تمام سائنسی اور طبی رپورٹس موصول ہونے تک تحقیقات جاری رہیں گی۔ لہٰذا کسی بھی قسم کے قیاس آرائی پر مبنی نتیجے سے گریز کیا جا رہا ہے اور شواہد کی بنیاد پر ہی حتمی رپورٹ تیار کی جائے گی۔
2 بہنوں کی المناک موت کے بعد پولیس نے معاملے کی مکمل سائنسی اور طبی جانچ کا فیصلہ کیا ہے۔ چنانچہ فارنسک رپورٹس، پوسٹ مارٹم نتائج اور ماہرین کی آراء سامنے آنے کے بعد ہی واقعے کی اصل وجہ کا تعین کیا جائے گا۔
