حیدرآباد ۔ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے اعلان کیا ہے کہ اگلے سال سے نیٹ امتحان کو کمپیوٹر پر مبنی نظام کے تحت منعقد کیا جائے گا۔ انہوں نے جمعہ کو نئی دہلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ تحریری نظام کو آن لائن امتحانی ماڈل میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مزید برآں ان کا کہنا تھا کہ مسابقتی امتحانات کے لیے جدید اور محفوظ نظام کی ضرورت ناگزیر ہو چکی ہے۔
یہ اعلان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب نیٹ پرچہ لیک ہونے اور نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کے تحت منعقد ہونے والے امتحانات کی منسوخی کے معاملات نے ملک بھر میں تشویش پیدا کر دی تھی۔ لاکھوں طلبہ نے مبینہ بے ضابطگیوں پر شدید مایوسی اور بے چینی کا اظہار کیا تھا۔
امتحانی نظام میں نئی اصلاحات | Digital NEET
دھرمیندر پردھان نے کہا کہ حکومت نے امتحانی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے رادھا کرشنن کمیٹی کی سفارشات نافذ کی ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ کمانڈ کے نظام میں کہیں نہ کہیں خرابی پیدا ہوئی تھی۔
انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ مستقبل میں اس قسم کی بے ضابطگیوں کو روکنے کے لیے اصلاحی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ وزیر نے اس معاملے کو ملک میں تعلیمی مافیا کے خلاف ایک طویل اور مسلسل جدوجہد قرار دیا۔
طلبہ کے لیے اضافی سہولیات کا اعلان | Digital NEET
دریں اثنا دھرمیندر پردھان نے بتایا کہ مرکزی تفتیشی بیورو نے معاملے کی کئی سطحوں پر تفصیلی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ان کے مطابق تحقیقات کے ذریعے یہ جاننے کی کوشش کی جائے گی کہ امتحانی نظام کو کس طرح متاثر کیا گیا۔
مزید برآں انہوں نے کہا کہ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی 21 جون کو نیٹ کا دوبارہ امتحان منعقد کرے گی جبکہ امیدواروں کو 14 جون تک ایڈمٹ کارڈ جاری کیے جائیں گے۔ طلبہ کو اپنی پسند کے امتحانی شہر کے انتخاب کے لیے 1 ہفتے کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔
انہوں نے اعلان کیا کہ او ایم آر شیٹ کی تفصیلات مکمل کرنے کے لیے طلبہ کو اضافی 15 منٹ دیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ امتحان کی منسوخی سے متاثر ہونے والے امیدواروں کی فیس واپس کی جائے گی جبکہ دوبارہ امتحان کے لیے کسی اضافی فیس کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا۔
