حیدرآباد: بی جے پی کے رکن پارلیمان ایٹیلہ راجندر نے تلنگانہ میں مونتھا طوفان سے پیدا ہونے والی صورتحال پر کانگریس حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت نے محکمہ موسمیات کی وارننگ کو نظرانداز کیا اور طوفان سے ہونے والے نقصان کو روکنے میں مکمل ناکام رہی۔
ایٹیلہ راجندر نے شاہ میر پیٹ، ملکاجگری میں اپنے دفتر پر سردار ولبھ بھائی پٹیل کی 150ویں یومِ پیدائش کے موقع پر “واک فار یونٹی” اور “واک فار بھارت” پوسٹروں کا اجراء کیا۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ وزراء متاثرہ اضلاع کے بجائے جوبلی ہلز کے ضمنی انتخاب میں مصروف رہے۔ ’’جب عوام مصیبت میں تھے، حکومت ووٹوں کی سیاست کر رہی تھی،‘‘ انہوں نے کہا۔
حکومت پر غفلت کا الزام | Montha Cyclone Criticism
ایٹیلہ راجندر نے کہا کہ وزراء کو فوری طور پر متاثرہ علاقوں کا دورہ کر کے عوامی مسائل سننے چاہیے تھے۔ ’’حکومت نے ریلیف کے بجائے انتخابی تشہیر کو ترجیح دی،‘‘ انہوں نے کہا۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں کے لیے معاوضے اور بحالی کے اقدامات کا فوری مطالبہ کیا۔
انہوں نے زور دیا کہ ’’ریاستی انتظامیہ کو متاثرہ اضلاع میں مستقل مانیٹرنگ اور شفاف ریلیف فراہم کرنی چاہیے تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو۔‘‘
“میرا یووا بھارت” پروگرام سے اتحاد کا پیغام | Montha Cyclone Criticism
ایٹیلہ راجندر نے بتایا کہ “میرا یووا بھارت” پروگرام کے تحت تمام اضلاع کے اسکولوں اور کالجوں میں اتحاد مارچ، مضمون نویسی، کھیلوں اور کوئز مقابلوں کا انعقاد کیا جائے گا۔ ان کے مطابق، ’’یہ سرگرمیاں سردار پٹیل کے اتحاد اور قومی یکجہتی کے نظریات کو فروغ دیتی ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ حب الوطنی کی بنیاد نظم و ضبط اور خدمت میں ہے۔ ’’خیالات اور عمل میں اتحاد ہی قوم کی تعمیر کی اساس ہے،‘‘ انہوں نے کہا۔
تعلیمی اور مقامی اداروں کی مشکلات | Montha Cyclone Criticism
ایٹیلہ راجندر نے حکومت پر تعلیمی شعبے میں فیس ری ایمبرسمنٹ بقایاجات ادا نہ کرنے کا الزام لگایا۔ ’’کالج بند ہونے کے قریب ہیں اور طلبہ مالی مشکلات کا شکار ہیں،‘‘ انہوں نے کہا۔
انہوں نے مزید کہا کہ دیہی پنچایتوں کو مکمل شدہ منصوبوں کی ادائیگی ابھی تک نہیں ہوئی، جس کے باعث سرپنچ اور وارڈ ممبران قرض میں ڈوب گئے ہیں۔
راجندر نے وزیراعلیٰ ریونت ریڈی کا موازنہ سابق وزیراعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ سے کرتے ہوئے کہا کہ ’’ریونت ریڈی وہی غلطیاں دہرا رہے ہیں جو کے سی آر نے کیں۔ دونوں نے عوامی فلاح کے بجائے سیاسی طاقت پر توجہ دی۔‘‘ انہوں نے خبردار کیا کہ ’’جس طرح عوام نے کے سی آر کو مسترد کیا، اسی طرح ریونت ریڈی کو بھی مسترد کریں گے۔‘‘
بی جے پی رہنماؤں کی شرکت | Montha Cyclone Criticism
اس موقع پر بی جے پی کے کئی رہنما موجود تھے، جن میں “میرا یووا بھارت” انچارج عیسیّا، ضلعی اسپورٹس آفیسر دامودر، این ایس ایس آفیسر وشوناتھ، میڈچل بی جے پی صدر بدھی سرینواس، اسمبلی امیدوار سدھارشن ریڈی اور دیگر سینئر قائدین شامل تھے۔
ایٹیلہ راجندر نے کہا کہ “واک فار یونٹی” مہم سردار پٹیل کے اُس وژن کی عکاس ہے جو ایک مضبوط اور متحد بھارت کے لیے وقف تھا۔ ’’پٹیل نظم، حوصلے اور اتحاد کے استعارہ تھے، اور ان کے نظریات آج بھی اتنے ہی اہم ہیں،‘‘ انہوں نے کہا۔
