Read in English  
       
Journalistic Ethics

حیدرآباد: وزیر اعلیٰ تلنگانہ اے. ریونت ریڈی نے جمعہ کے روز Journalistic Ethicsکی گرتی ہوئی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جیسے سیاستدانوں پر عوام کا اعتماد کم ہو رہا ہے، ویسے ہی میڈیا کی ساکھ بھی متاثر ہو رہی ہے۔

یہ ریمارکس انہوں نے نوا تلنگانہ اخبار کی دسویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کے دوران سندرایا وگنان کیندر، باغ لنگم پلی میں دیے۔

ریونت ریڈی نے کہا کہ صحافت آج ایک “بدقسمت رجحان” کا شکار ہے، جہاں غیر تربیت یافتہ افراد سوشل میڈیا کے ذریعے خود کو صحافی ظاہر کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایسے لوگ جو “تلگو کا پہلا حرف بھی نہیں لکھ سکتے”، خود کو پریس کہہ کر سڑکوں پر گھوم رہے ہیں، نازیبا زبان استعمال کرتے ہیں، اور فرضی صحافتی شناخت کے ساتھ عوام کو گمراہ کر رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے سینئر صحافیوں سے اپیل کی کہ وہ ایسے عناصر کو مسترد کریں اور ان کے ساتھ اسٹیج یا پلیٹ فارم شریک نہ کریں۔

اس موقع پر وزیر پونگلیٹی سرینواس ریڈی، وزیر اعلیٰ کے مشیر ویم نریندر ریڈی، سی پی ایم قائدین بی وی راگھولو اور جان ویسلے بھی موجود تھے۔

ریونت ریڈی نے صحافیوں سے اپیل کی کہ وہ صحافتی اصولوں کی پاسداری کریں اور اس پیشے کی ساکھ کو بحال کریں۔ انہوں نے کمیونسٹ جماعتوں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ 2004 کے عام انتخابات میں ان کا کردار اہم رہا۔ انہوں نے کہا کہ کمیونسٹ جماعتیں نہ صرف حکومت پر تنقید میں مؤثر ہیں بلکہ عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کرنے یا اقتدار سے بے دخل کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔

تقریب میں سابق سی پی ایم ریاستی سیکریٹری تمینینی ویربھدرم اور سابق رکن اسمبلی جولاکانتی رنگا ریڈی بھی شریک تھے۔