Farmers Rights
حیدرآباد ۔ بی آر ایس کے ورکنگ پریزیڈنٹ کے ٹی راما راو نے ویمولا پرشانت ریڈی کی نظر بندی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کانگریس حکومت پر کسانوں کے مسائل اٹھانے والے رہنماؤں کے خلاف غیر جمہوری رویہ اختیار کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب پولیس نے سابق وزیر اور بالکنڈہ کے رکن اسمبلی ویمولا پرشانت ریڈی کو ایلاریڈی حلقے کے تڈوائی منڈل میں منعقد ہونے والے احتجاجی پروگرام میں شرکت سے روک دیا۔ یہ احتجاج یوریا کی تقسیم کے لیے استعمال ہونے والے ایپ پر مبنی نظام اور کھاد کی فراہمی سے متعلق مسائل کے خلاف منصوبہ بند تھا۔
کے ٹی راما راو نے کہا کہ حکومت ان رہنماؤں کی آواز دبانے کی کوشش کر رہی ہے جو کسانوں کو متاثر کرنے والی پالیسیوں پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ ان کے مطابق ویمولا پرشانت ریڈی کے خلاف کارروائی حکومت کے غیر جمہوری طرز عمل کا واضح ثبوت ہے۔
نظر بندی پر بی آر ایس کا ردعمل | Farmers Rights
پولیس کارروائی کے بعد کے ٹی راما راو نے ویمولا پرشانت ریڈی سے فون پر بات کی۔ اس دوران انہوں نے سابق وزیر سے یکجہتی کا اظہار کیا اور حکومت کے رویے پر سخت تنقید کی۔
کے ٹی راما راو کے مطابق ریاست بھر کے کسان یوریا کے حصول میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو اس مسئلے کا حل تلاش کرنے پر توجہ دینی چاہیے، نہ کہ ان افراد کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے جو کسانوں کے مسائل کو اجاگر کر رہے ہیں۔
مزید برآں انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کسانوں کو مناسب مقدار میں کھاد فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ان کے مطابق اپوزیشن رہنماؤں کو خاموش کرانے کی کوششیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ حکومت کسانوں کے حقیقی مسائل حل کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے۔
یوریا نظام پر اعتراضات | Farmers Rights
کے ٹی راما راو نے یوریا کی تقسیم کے لیے نافذ کردہ ایپ پر مبنی نظام کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اس نظام کے باعث کسانوں کو غیر ضروری مشکلات اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
انہوں نے استدلال پیش کیا کہ حکومت کو پابندیوں اور پولیس کارروائیوں کے بجائے کسانوں کے تحفظات سننے چاہییں۔ چنانچہ کسان برادری کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا ہی موجودہ صورتحال کا مؤثر جواب ہو سکتا ہے۔
کے ٹی راما راو نے مزید کہا کہ عوامی مسائل اٹھانا اور حکومت سے سوال کرنا اپوزیشن کا آئینی حق ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ نظر بندیاں، پابندیاں اور دباؤ کے ہتھکنڈے نہ تو بی آر ایس رہنماؤں کو روک سکتے ہیں اور نہ ہی کسانوں کو اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے سے باز رکھ سکتے ہیں۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بی آر ایس کسانوں سے متعلق مسائل پر اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور کھاد کی فراہمی سمیت زرعی شعبے سے وابستہ مسائل کو ہر سطح پر اٹھاتی رہے گی۔
రైతుల సమస్యలపై పోరాడితే గృహ నిర్బంధాలా❓
కాంగ్రెస్ ప్రభుత్వ నిరంకుశ వైఖరిని తీవ్రంగా ఖండించిన బీఆర్ఎస్ వర్కింగ్ ప్రెసిడెంట్ @KTRBRS🔥
రైతుల తరఫున ప్రశ్నించే నాయకులను అణిచివేయాలని ప్రభుత్వం ప్రయత్నించడం అత్యంత దుర్మార్గమైన చర్య
రైతులకు ఎరువుల సరఫరాలో ఏర్పడిన తీవ్ర సమస్యలను… pic.twitter.com/hNSxd0Tdpe
— BRS Party (@BRSparty) June 23, 2026
