حیدرآباد: انڈین انسٹیٹیوٹ آف کیمیکل ٹیکنالوجی (IICT) کے سائنسدانوں نے سیلاب زدہ علاقوں میں محفوظ پینے کے پانی کی فراہمی کے لیے ایک سادہ آلہ تیار کیا ہے۔ یہ بوتل نما فلٹر آلودہ پانی کو فوری طور پر پینے کے قابل بناتا ہے۔
قدرتی آفات کے دوران مقامی پانی آلودہ ہوجاتا ہے اور بیرونی سپلائی ممکن نہیں رہتی۔ تاہم، IICT کے محققین نے ایک ایسا پورٹ ایبل فلٹر تیار کیا جو براہ راست متاثرہ علاقوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ حال ہی میں اس آلے کو جموں و کشمیر میں سیلاب کے دوران استعمال کیا گیا اور مقامی لوگوں کو محفوظ پانی فراہم کیا گیا۔
فلٹر کی خصوصیات
یہ ایک لیٹر کی بوتل کی شکل کا فلٹر ہے جو کھوکھلے فائبر جھلی (hollow fiber membrane) پر انحصار کرتا ہے۔ یہ جھلی باریک چھلنی کی طرح کام کرتی ہے اور بیکٹیریا، وائرس اور دیگر آلودگیوں کو روک دیتی ہے۔ مزید برآں، فائبرز کو “U” شکل میں موڑا گیا ہے تاکہ پانی کا رنگ اور جراثیم دونوں ختم ہوں اور صاف پانی فوری طور پر دستیاب ہو۔
استعمال کا طریقہ
صارفین صرف بوتل کو دبائیں تو دباؤ پیدا ہوتا ہے اور پانی فوراً چھن کر باہر آتا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق ایک فلٹر یونٹ 3,000 لیٹر تک پانی صاف کرسکتا ہے۔ دریں اثنا، یہ ٹیکنالوجی کم خرچ اور آسان استعمال کے باعث سیلاب متاثرین کے لیے بڑی سہولت بن سکتی ہے۔
IICT کے اس نئے آلے کو ماہرین نے ایک انقلابی قدم قرار دیا ہے کیونکہ اس سے ہنگامی حالات میں پینے کے پانی کی کمی کا مسئلہ کافی حد تک حل ہوسکتا ہے۔
