Read in English  
       
Hostel Crisis

حیدرآباد: تلنگانہ جاگروتی کی سربراہ اور سابق ایم پی کے کویتا نے گدوال کے فوڈ پوائزننگ واقعے کے بعد حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گروکل اور ویلفیئر ہاسٹلز میں بار بار زہریلے کھانے کے واقعات نے ریاست بھر میں شدید پریشانی پیدا کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ طلبہ کی خودکشیوں کے واقعات بھی دکھ کا باعث ہیں، مگر حکومت فوری اقدامات کرنے میں ناکام رہی۔

کویتا کے مطابق گدوال کے ایس ٹی ویلفیئر ہاسٹل میں بارہ طلبہ خراب کھانا کھانے کے بعد بیمار پڑ گئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ موجودہ حکومت کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے اور اس سے ثابت ہوا کہ غریب بچوں کی ضروریات کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ان واقعات نے عوام کے اعتماد کو مزید کمزور کر دیا ہے۔

گدوال واقعہ اور بڑھتی ہوئی بے چینی | Hostel Crisis

کویتا نے کہا کہ پہلے پیش آئے واقعات نے ہی والدین کو ہلا کر رکھ دیا تھا، اور اب مختلف اضلاع سے نئی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔ ان کے مطابق حکومت نے ابھی تک سخت اقدامات نہیں کئے، جس کے باعث ہاسٹل پر انحصار رکھنے والے خاندانوں میں خوف بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کچن، اسٹور رومز اور سپلائی پوائنٹس کی سخت جانچ کی جائے۔

کویتا نے نشاندہی کی کہ وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کے پاس تعلیم کا قلمدان ہے، اور انہی کے علاقے میں بار بار پیش آنے والے واقعات ذمہ داری کے اہم سوالات اٹھاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بارہا ہونے والی غلطیوں نے والدین کا اعتماد مجروح کیا ہے۔

ذمہ داری، نگرانی اور سخت حفاظتی اقدامات | Hostel Crisis

کویتا نے کہا کہ حکومت کو معائنہ نظام بہتر بنانا ہوگا اور ہاسٹلوں کے لئے مضبوط حفاظتی اصول متعارف کرانے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہر نئے واقعے کے ساتھ عوامی ناراضگی بڑھ رہی ہے اور صورتحال فوری اصلاحی اقدامات کا تقاضا کرتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، ایسے واقعات ہاسٹل انتظامیہ اور حکومتی نگرانی کے درمیان موجود خامیوں کو نمایاں کرتے ہیں۔ والدین نے حکام سے مطالبہ کیا کہ بچوں کی صحت اور حفاظت کے لئے مؤثر اور دیرپا اقدامات کئے جائیں۔