حیدرآباد: سدی پیٹ ضلع کے نوجوانوں نے ووٹ کی خریدوفروخت کے خلاف منفرد احتجاج شروع کیا ہے۔ انہوں نے گھروں کے سامنے فلیکس بینرز لگاکر واضح کیا کہ ان کا ووٹ آئینی حق ہے اور وہ اسے فروخت نہیں کریں گے۔ گاندھی نگر، حسن آباد منڈل میں یہ سرگرمی گاؤں کی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔
مقامی افراد نے بتایا کہ یہ بینرز ووٹ کی اہمیت اجاگر کرتے ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ پیسہ یا شراب ان کے فیصلے پر اثر انداز نہیں ہو سکتی۔ بستی میں کئی گھروں پر یہ پیغامات نظر آئے، کیونکہ گاؤں مقامی انتخابات کی تیاریاں کر رہا ہے۔
گاؤں میں شعور بیداری اور احتجاج کا دائرہ وسیع – Clean Elections
گاوں والوں نے کہا کہ یہ بینرز گزرنے والوں کو ووٹ کی حفاظت کی یاد دلاتے ہیں۔ نوجوانوں نے اعلان کیا کہ وہ کسی امیدوار سے کسی بھی قسم کی لالچ قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ دوسروں کو بھی ایسی پیشکشیں لینے سے روکیں گے۔
ان کا کہنا ہے کہ ووٹ بیچنے سے قیادت کو جوابدہ بنانے کا حق کمزور ہوتا ہے۔ نوجوانوں کے مطابق غلط انتخاب پورے گاؤں کی ترقی کو پانچ سال پیچھے دھکیل سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تعلیم یافتہ اور تجربہ کار امیدواروں کو قیادت کا موقع ملنا چاہیے۔
باخبر قیادت اور صاف ستھرے انتخاب کی ضرورت – Clean Elections
نوجوانوں نے کہا کہ مضبوط قیادت سے دیہی انتظام بہتر ہوسکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ووٹ کی خریدوفروخت کے خلاف احتجاج کا مقصد صاف شفاف انتخابات کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ باشعور ووٹر معاشرے میں ذمہ دارانہ کردار ادا کرتے ہیں اور مستقبل کے لیے درست راستہ چنتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گاؤں کی ترقی عوامی فیصلوں سے جڑی ہوتی ہے۔ نوجوانوں کا ماننا ہے کہ صحیح قیادت ہی عوامی خدمات کو بہتر بنا سکتی ہے، اس لیے ووٹ کا درست استعمال سب کی ذمہ داری ہے۔
