Election Strategy
حیدرآباد ۔ سی پی آئی کے رکن اسمبلی کونمنینی سامبا سیوا راو نے پیر کے روز بی جے پی پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ یہ جماعت مذہبی تقسیم اور فرقہ وارانہ سیاست کی بنیاد پر پروان چڑھی ہے۔ انہوں نے تلنگانہ میں بی جے پی کے اثر و رسوخ میں اضافے سے متعلق پارٹی رہنماؤں کے دعوؤں کو بھی مسترد کر دیا۔
حیدرآباد کے مخدوم بھون میں منعقدہ تلنگانہ ریاستی کونسل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی جے پی ریاست میں چند نشستیں حاصل کر سکتی ہے، تاہم تلنگانہ میں اقتدار تک پہنچنا اس کے لیے ممکن نہیں ہوگا۔ مزید برآں انہوں نے دعویٰ کیا کہ ریاستی اور مرکزی حکومتوں کے خلاف عوامی ناراضگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
عوامی مسائل پر جدوجہد تیز کرنے کی اپیل | Election Strategy
کونمنینی سامبا سیوا راو نے سی پی آئی کارکنوں پر زور دیا کہ وہ عوامی مسائل پر اپنی جدوجہد کو مزید تیز کریں۔ ان کے مطابق عوام کو درپیش مسائل کو مؤثر انداز میں اجاگر کرنا پارٹی کی اہم ذمہ داری ہے۔
اسی دوران انہوں نے آئندہ انتخابات کے لیے پارٹی کی حکمت عملی بھی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر انتخابی اتحاد تشکیل پاتا ہے تو سی پی آئی کو کم از کم 5 حلقوں سے انتخاب لڑنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر اتحاد نہ بن سکا تو پارٹی کو کم از کم 15 حلقوں میں اپنے طور پر امیدوار میدان میں اتارنے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔ ان کے مطابق پارٹی نے ریاست بھر میں 40 مضبوط حلقوں کی نشاندہی بھی کر لی ہے جہاں تنظیمی سرگرمیوں کو مزید وسعت دی جائے گی۔
انتخابی تیاریوں اور پروگراموں کا اعلان | Election Strategy
کونمنینی سامبا سیوا راو نے اعلان کیا کہ سی پی آئی 6 اگست سے 15 اگست تک ان حلقوں میں خصوصی پدیاترا پروگرام منعقد کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس مہم کے دوران مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی ناکامیوں کے ساتھ ساتھ مقامی مسائل کو بھی عوام کے سامنے رکھا جائے گا۔
مزید برآں انہوں نے بتایا کہ پروفیسر ناگیشور کو مبینہ طور پر ہراساں کیے جانے کے خلاف 4 جون کو ایک خصوصی احتجاجی پروگرام منعقد کیا جائے گا۔ دوسری جانب انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی کے مسئلے پر 15 جون کو بھی ایک علیحدہ پروگرام کا انعقاد کیا جائے گا۔
کونمنینی سامبا سیوا راو نے یہ بھی اعلان کیا کہ سی پی آئی 28 ستمبر کو “چلو دہلی” پروگرام منعقد کرے گی۔ ان کے مطابق اس مہم کا مقصد اہم عوامی مسائل کو قومی سطح پر اجاگر کرنا اور عوامی حقوق کے لیے آواز بلند کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی آنے والے دنوں میں اپنی تنظیمی سرگرمیوں کو مزید مضبوط بناتے ہوئے عوام کے درمیان اپنی موجودگی میں اضافہ کرے گی اور مختلف عوامی مسائل پر جدوجہد جاری رکھے گی۔
