Food Safety Violations
حیدرآباد ۔ سائبرآباد میونسپل کارپوریشن کے فوڈ سیفٹی حکام نے 18 جون کو کیے گئے معائنے کے دوران دی اسپائس کچن میں متعدد صفائی اور غذائی تحفظ سے متعلق خلاف ورزیاں پائے جانے کے بعد ادارے کو بہتری کا نوٹس جاری کیا ہے۔ یہ معائنہ سائبرآباد میں جاری معمول کی فوڈ سیفٹی نگرانی مہم کا حصہ تھا۔
حکام نے معائنے کے دوران صفائی کے انتظامات، خوراک کی تیاری کے طریقہ کار اور فوڈ سیفٹی قوانین پر عمل درآمد کا جائزہ لیا۔ رپورٹ کے مطابق فوڈ ہینڈلرز ہیئر نیٹس اور اپرون استعمال کرتے ہوئے پائے گئے، تاہم کچن اور اسٹوریج کے مختلف حصوں میں کئی سنگین خامیاں بھی سامنے آئیں۔
کچن اور اسٹوریج میں سنگین بے ضابطگیاں سامنے آئیں | Food Safety Violations
معائنہ کرنے والی ٹیم نے کچن، فریزر اور اسٹوریج ایریاز میں کاکروچوں کی بڑی تعداد کی موجودگی نوٹ کی۔ مزید برآں، ذخیرہ شدہ غذائی اشیا میں اناج کو نقصان پہنچانے والے کیڑوں کی موجودگی بھی پائی گئی جس پر حکام نے تشویش کا اظہار کیا۔
دریں اثنا، فریزر میں پرانا اور باسی کھانا ذخیرہ کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ متعدد غذائی اشیا پر مناسب لیبلنگ، پیکنگ اور تاریخ درج نہیں تھی، جس کے باعث ان کی شناخت اور معیار کی جانچ میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔
حکام نے یہ بھی پایا کہ کچا چکن مناسب طریقے سے پیک نہیں کیا گیا تھا۔ مزید یہ کہ سبزی خور اور گوشت پر مشتمل اشیا کو ایک ہی جگہ ذخیرہ کیا جا رہا تھا، جس سے غذائی آلودگی کے خدشات پیدا ہوئے۔
صفائی کے ناقص انتظامات پر فوری اقدامات کی ہدایت | Food Safety Violations
معائنے کے دوران ریسٹورنٹ میں صفائی کے عمومی معیار کو بھی غیر تسلی بخش قرار دیا گیا۔ واش ایریا کے قریب فرش کے بعض حصے خراب حالت میں پائے گئے، جس سے حفظان صحت کے اصول متاثر ہو رہے تھے۔
لہٰذا سائبرآباد میونسپل کارپوریشن نے انتظامیہ کو فوری اصلاحی اقدامات کرنے کی ہدایت دی ہے۔ حکام نے واضح کیا کہ کیڑوں کے خاتمے، صفائی کے نظام کو بہتر بنانے اور خوراک ذخیرہ کرنے کے طریقوں میں فوری بہتری لانا ضروری ہے۔
کارپوریشن کے مطابق ادارے کو باضابطہ طور پر بہتری کا نوٹس جاری کیا جا رہا ہے تاکہ تمام خامیوں کو مقررہ مدت میں دور کیا جا سکے۔ معائنے کے دوران ریسٹورنٹ کو صفائی کے جائزے میں 108 میں سے 60 نمبر حاصل ہوئے، جو تقریباً 56 فیصد بنتے ہیں۔
سائبرآباد میونسپل کارپوریشن نے واضح کیا ہے کہ عوامی صحت کے تحفظ اور غذائی معیار کو بہتر بنانے کے لیے ایسے معائنے مسلسل جاری رہیں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ فوڈ سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے اداروں کے خلاف مناسب کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
