حیدرآباد ۔ حیدرآباد پولیس نے اے آئی سافٹ ویئر کے ذریعے جعلی پولیس ویڈیوز تیار کرکے سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے والے ایک نوجوان کو گرفتار کرلیا۔ پولیس کے مطابق ملزم خود کو پولیس افسر ظاہر کرکے سوشل میڈیا پر مقبولیت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
پولیس حکام نے بتایا کہ گرفتار شخص کی شناخت 27 سالہ محمد ابوبکر علی تبسم کے طور پر ہوئی ہے جو پیشے سے ڈلیوری ایگزیکٹو ہے۔ تاہم، تفتیش کے دوران انکشاف ہوا کہ وہ مصنوعی ذہانت پر مبنی سافٹ ویئر استعمال کرتے ہوئے فرضی ویڈیوز تیار کر رہا تھا۔
جعلی ویڈیوز کا نیٹ ورک بے نقاب | Fake Police Clips
راجندر نگر زون کی کمشنر ٹاسک فورس اور کالا پتھر پولیس نے مشترکہ کارروائی کے دوران ملزم کو گرفتار کیا۔ پولیس کے مطابق ویڈیوز میں ملزم خود کو پولیس افسر کے روپ میں پیش کرتا تھا، جس سے عام لوگوں کے گمراہ ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا تھا۔
مزید برآں، حکام نے الزام لگایا کہ ملزم ویڈیوز میں اسلحہ بھی دکھاتا تھا۔ اسی وجہ سے سوشل میڈیا صارفین میں خوف اور بے چینی پیدا ہونے کا امکان تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ایسی ویڈیوز عوامی اعتماد کو متاثر کرسکتی ہیں۔
پولیس نے کالا پتھر پولیس اسٹیشن میں بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعہ 205 اور آئی ٹی ایکٹ کی دفعات 66 اور 66D کے تحت مقدمہ درج کیا۔ بعد ازاں خفیہ اطلاع کی بنیاد پر ٹاسک فورس اور مقامی پولیس نے میلاردیو پلی پولیس اسٹیشن حدود میں کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو حراست میں لیا۔
سوشل میڈیا مواد پر احتیاط کی اپیل | Fake Police Clips
کارروائی کے دوران پولیس نے ملزم کے قبضے سے 10,000 روپے مالیت کا موبائل فون ضبط کیا۔ حکام کے مطابق یہی موبائل فون مبینہ جرم میں استعمال کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ تفتیشی ٹیم نے کچھ قابل اعتراض مواد بھی برآمد کیا ہے۔
دریں اثنا، پولیس اس بات کی جانچ کر رہی ہے کہ آیا اس جعلی ویڈیو نیٹ ورک میں دیگر افراد بھی شامل ہیں یا نہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ معاملے کی مکمل چھان بین جاری ہے اور مزید گرفتاریاں بھی ہوسکتی ہیں۔
حیدرآباد پولیس کمشنر نے ڈی سی پی ٹاسک فورس ویبھو گائیکواڑ کی نگرانی میں کارروائی انجام دینے والی راجندر نگر ٹاسک فورس اور کالا پتھر پولیس ٹیموں کی ستائش کی۔ علاوہ ازیں، پولیس نے شہریوں کو مشورہ دیا کہ وہ غیر مصدقہ سوشل میڈیا مواد پر یقین نہ کریں اور نہ ہی اسے آگے شیئر کریں۔
حکام نے زور دے کر کہا کہ عوام صرف سرکاری ذرائع سے جاری کردہ معلومات پر ہی اعتماد کریں تاکہ افواہوں اور گمراہ کن مواد سے بچا جاسکے۔
