Read in English  
       
Congress Dues Cards

حیدرآباد ۔ بی آر ایس کے رکن اسمبلی اور سابق وزیر ٹی۔ ہریش راؤ نے الزام عائد کیا ہے کہ کانگریس حکومت نے عوام کو جھوٹے وعدوں سے دھوکہ دیا ہے۔ منگل کے روز انہوں نے سدی پیٹ میں اپنے کیمپ آفس سے “کانگریس بقایہ کارڈز” Congress Dues Cards مہم کا آغاز کیا۔

ہریش راؤ نے کہا کہ اس مہم کا مقصد گھروں کو یاد دلانا ہے کہ حکومت ان کے کس قدر بقایہ دار ہے۔ انہوں نے مقامی بی آر ایس قائدین بشمول سابق سرپنچ، ایم پی ٹی سیز اور سینئر کارکنوں کو ہدایت دی کہ یہ کارڈ گھر گھر تقسیم کریں۔ ان کے بقول عوام کو معلوم ہونا چاہیے کہ کانگریس ہر خاتون اور ہر کسان کی کتنی مقروض ہے، اور یہ بحث ہر گھر میں ہونی چاہیے۔

کسانوں اور خواتین کے وعدوں پر تنقید

ہریش راؤ نے الزام لگایا کہ گزشتہ یسانگی سیزن میں کسانوں کے ساتھ دھوکہ ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ رعیتو بھروسہ اسکیم کو صرف تین ایکڑ تک محدود رکھا گیا، حالانکہ کانگریس نے پنچایت انتخابات سے قبل فی ایکڑ 12,000 روپئے دینے کا وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہر کسان کے 75,000 روپئے بقایہ ہیں۔

سابق وزیر نے کہا کہ خواتین کے لیے کئے گئے وعدوں کو بھی نظرانداز کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق کانگریس ہر خاتون کی 44,000 روپئے کی مقروض ہے اور انہیں ووٹ صرف اسی وقت مانگنے چاہییں جب یہ رقم ادا کی جائے۔

ریونت ریڈی اور کابینہ پر نشانہ

Congress Dues Cards مہم کا اعلان کرنے کے بعد ہریش راو نے چیف منسٹر ریونت ریڈی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کرسی پر بیٹھنے کے بعد انہیں احساس ہوا ہے کہ کے سی آر نے صحیح فیصلے کئے تھے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کابینہ نے 30 اجلاس منعقد کئے مگر چھ ضمانتوں کو قانونی شکل نہیں دی۔ ان کا کہنا تھا کہ وبا کے دوران کے سی آر نے وزیروں اور ارکان اسمبلی کی تنخواہیں روک دیں لیکن کسانوں کو رعیتو بندھو کی رقم جاری رکھی۔