حیدرآباد: بی آر ایس کے ورکنگ صدر کے ٹی راما راؤ آج چینئی میں منعقد ہونے والی اِگنیشن کانفرنس سے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے خطاب کریں گے۔ یہ پروگرام شومہ چودھری کی میزبانی میں آئی ٹی سی گرینڈ چولا میں شیونادر فاؤنڈیشن کے تحت منعقد ہو رہا ہے۔ ملک بھر سے سینئر رہنما، ماہرینِ معاشیات اور پالیسی تجزیہ کار اس اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔
کے ٹی آر ’’ری بوٹنگ دی پبلک‘‘ کے عنوان سے ہونے والے سیشن میں گفتگو کریں گے۔ وہ قومی ترقی میں سیاست اور ٹیکنالوجی کے کردار پر روشنی ڈالیں گے۔ اس کے ساتھ ملک بھر میں جدت طرازی کے مراکز قائم کرنے اور جامع معاشی ترقی کی ضرورت کو بھی بیان کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
ٹیکنالوجی، پالیسی مباحث | Policy Forum
بی آر ایس رہنما اس بات کی وضاحت کریں گے کہ بھارت کو طویل المدتی ترقی کے لئے ٹیک کاریڈورز کو وسعت دینے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ کاریڈورز ابھرتے ہوئے شعبوں کو مضبوط بناتے ہیں اور ملازمت پیشہ افراد کے لئے نئے مواقع پیدا کرتے ہیں۔ شرکا کو توقع ہے کہ وہ موجودہ قومی سیاسی موضوعات پر بھی اپنی رائے پیش کریں گے۔
منتظمین نے کہا کہ اِگنیشن کانفرنس کا مقصد ملک کے نمایاں مفکرین کو ایک پلیٹ فارم پر لانا ہے تاکہ مستقبل کی عوامی پالیسی کے ڈھانچے پر جامع گفتگو کی جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ کے ٹی آر کا خطاب ٹیکنالوجی پر مبنی اصلاحات سے تشکیل پانے والے طرزِ حکمرانی پر بھی روشنی ڈالے گا۔ حالیہ عوامی مصروفیات میں ان کے بڑھتے ہوئے قومی رجحانات کے باعث ان کی شرکت نے خاص توجہ حاصل کی ہے۔
قومی مباحث، نئی سوچ | Policy Forum
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے عوامی مباحث مستقبل کی پالیسی سازی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ مبصرین کے مطابق کے ٹی آر کا بڑھتا ہوا قومی فوکس انہیں ایسے پلیٹ فارمز پر نمایاں بناتا جا رہا ہے، جہاں ٹیکنالوجی اور گورننس کے سنگم پر نئی حکمتِ عملی تشکیل پاتی ہے۔ کانفرنس سے ان کے خطاب سے توقع کی جا رہی ہے کہ ملک کی ترقی کے لئے جدید سمتوں پر گفتگو مزید آگے بڑھے گی۔
منتظمین نے کہا کہ اس اجلاس میں سامنے آنے والی تجاویز مختلف ریاستوں کے لئے بھی رہنمائی فراہم کر سکتی ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مباحث مستقبل کے پالیسی ماڈلز کے لئے عملی راستہ دکھائیں گے، جن میں ٹیکنالوجی کی شمولیت مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔
