Read in English  
       
Medaram Temple Tenders

حیدرآباد: تلنگانہ میں میڈارم مندر کے ترقیاتی ٹینڈرز کو لے کر وزیروں کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔ وزیر پونگولیٹی سرینواس ریڈی اور وزیر کونڈاسُریکھا کے درمیان تنازعہ نے ریاستی کانگریس میں ہلچل مچا دی ہے۔

ذرائع کے مطابق، وزیر کونڈاسُریکھا نے وزیراعلیٰ ریونت ریڈی سے شکایت کرتے ہوئے الزام لگایا کہ پونگولیٹی سرینواس ریڈی ان کے محکمہ کے معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پونگولیٹی نے میڈارم مندر کے 71 کروڑ روپئے کے اینڈومنٹس ڈپارٹمنٹ ٹینڈر میں اپنے قریبی شخص کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی۔

وزیروں میں اختلافات اور پارٹی قیادت کی مداخلت | Medaram Temple Tenders

کونڈاسُریکھا نے وزیراعلیٰ کے ساتھ ساتھ کانگریس ہائی کمان کو بھی تحریری شکایت دی ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق، ہائی کمان نے اس معاملے پر تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے تاکہ وزیروں کے درمیان بڑھتے اختلافات پر قابو پایا جا سکے۔

ریاستی کانگریس قیادت اس معاملے کو حساس قرار دے رہی ہے کیونکہ دونوں وزراء کابینہ کے اہم ارکان ہیں۔ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر معاملہ طول پکڑتا ہے تو اس کے سیاسی اثرات حکومت کے اندرونی توازن پر پڑ سکتے ہیں۔

میڈارم کی ترقیاتی اسکیم اور سیاسی پس منظر | Medaram Temple Tenders

ریاستی حکومت میڈارم مندر کے ترقیاتی کاموں کو ترجیح دے رہی ہے، جو تلنگانہ کا ایک اہم قبائلی زیارت گاہ ہے۔ وزیراعلیٰ ریونت ریڈی نے حال ہی میں مندر کا دورہ کیا اور جاری ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیا۔

سرکاری عہدیداروں کے مطابق، وزیراعلیٰ نے ہدایت دی ہے کہ میڈارم جاترا سے قبل تمام ترقیاتی کام مکمل کر لیے جائیں۔ تاہم، ٹینڈر کے تنازعے نے اس منصوبے کو سیاسی بحث کا مرکز بنا دیا ہے۔

ریاستی حکومت نے اب تک اس تنازعے پر باضابطہ بیان جاری نہیں کیا، لیکن پارٹی کے اندرونی حلقے اس بات کے منتظر ہیں کہ قیادت دونوں وزیروں کے درمیان کشیدگی کو کس طرح ختم کرتی ہے۔