Read in English  
       
Fugitive Arrest

حیدرآباد ۔ سلطان بازار پولیس نے قتل کے ایک مقدمے میں ملوث ایسے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے جو مبینہ طور پر ضمانت حاصل کرنے کے بعد 14 سال تک مفرور رہا۔ پولیس کے مطابق ملزم نہ صرف طویل عرصے تک قانون کی گرفت سے بچتا رہا بلکہ اس نے اپنی شناخت تبدیل کرکے تفتیشی عمل سے بھی بچنے کی کوشش کی۔

پولیس نے گرفتار شخص کی شناخت وشنو کشن داس عرف وی گنیش مہاراج کے طور پر کی ہے جو اتر پردیش کا رہائشی بتایا جاتا ہے۔ حکام کے مطابق وہ 2010 میں سلطان بازار پولیس اسٹیشن میں درج ایک قتل مقدمے میں دوسرے ملزم کے طور پر نامزد تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے 2010 میں عدالت کے سامنے خودسپردگی اختیار کی تھی اور بعد ازاں 2012 میں ضمانت حاصل کر لی۔ تاہم ضمانت کے بعد وہ اچانک لاپتا ہوگیا اور ایک دہائی سے زائد عرصے تک مقدمے کی کارروائی سے بچتا رہا۔

شناخت تبدیل کرکے روپوشی کی کوشش | Fugitive Arrest

تحقیقات کے دوران پولیس کو معلوم ہوا کہ ملزم نے مبینہ طور پر آدھار اور دیگر سرکاری دستاویزات میں اپنا نام تبدیل کروا لیا تھا۔ حکام کے مطابق وہ تبدیل شدہ شناخت کے ساتھ ملک پیٹ کے علاقے میں مقیم تھا۔

مزید برآں، پولیس کو یہ بھی پتہ چلا کہ ملزم کے خلاف حیدرآباد اور دیگر اضلاع میں متعدد فوجداری مقدمات درج ہیں۔ ان مقدمات میں قتل، اقدام قتل، چوری اور آرمس ایکٹ سے متعلق جرائم شامل ہیں۔

21 مقدمات میں ملوث ہونے کا دعویٰ | Fugitive Arrest

پولیس حکام کے مطابق گرفتار ملزم کا نام مجموعی طور پر 21 فوجداری مقدمات میں سامنے آچکا ہے۔ اسی پس منظر میں اس کے خلاف 1999 میں روڈی شیٹ بھی کھولی گئی تھی۔

دریں اثنا، مصدقہ خفیہ اطلاعات موصول ہونے پر ایک خصوصی پولیس ٹیم نے کارروائی کرتے ہوئے ملزم کا سراغ لگایا اور اسے گرفتار کر لیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے ساتھ ایک ایسے مفرور روڈی شیٹر کی تلاش ختم ہوئی جو کئی برسوں سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب تھا۔

مزید تحقیقات کے دوران حکام نے شناختی دستاویزات میں مبینہ جعلسازی اور غیر قانونی تبدیلیوں کے حوالے سے بھی الگ انکوائری شروع کر دی ہے۔ اس کے نتیجے میں یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ شناخت کی تبدیلی کس طریقے سے اور کن حالات میں عمل میں لائی گئی۔