حیدرآباد: راجنا سرسلہ ضلع کے ویمولاواڑہ قصبے میں خواتین سیلف ہیلپ گروپس کے درمیان جعلی کرنسی نوٹ سامنے آنے کے بعد خوف و ہراس کی فضا پیدا ہو گئی ہے۔ یہ معاملہ اس وقت منظر عام پر آیا جب گروپ کی ماہانہ قرض کی قسطیں جمع کی گئیں۔
خواتین اراکین نے معمول کے مطابق رقم گروپ لیڈر کے حوالے کی۔ بعد ازاں جب گروپ لیڈر رقم بینک میں جمع کرانے پہنچی تو بینک عہدیداروں نے 500 روپئے کا ایک نوٹ جعلی قرار دیا۔
بینک کی جانب سے فوری اطلاع ملنے پر گروپ لیڈر اور اراکین سخت پریشان ہو گئیں۔ خواتین کا کہنا تھا کہ قسطوں کی وصولی کے دوران انہیں جعلی نوٹ ہونے کا کوئی علم نہیں تھا۔
جعلی کرنسی پر خدشات | Counterfeit Currency
خواتین اراکین کے مطابق اس سے قبل بھی دو مرتبہ اسی طرح کے جعلی نوٹ سامنے آ چکے ہیں۔ تازہ واقعہ تیسری بار پیش آنے والا معاملہ ہے، جس کے بعد خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
جیسے ہی یہ خبر پھیلی، ویمولاواڑہ میں سیلف ہیلپ گروپس کے لین دین میں جعلی نوٹوں کا مسئلہ موضوعِ بحث بن گیا۔ خواتین نے نقد رقم کے استعمال کے دوران عدم تحفظ کا اظہار کیا۔
بینکوں کی وارننگ | Counterfeit Currency
بینک عہدیداروں نے تلنگانہ بھر کے سیلف ہیلپ گروپس کو ہوشیار رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ رقم وصول کرتے وقت ہر نوٹ کی اچھی طرح جانچ ضروری ہے۔
عہدیداروں نے واضح کیا کہ جعلی کرنسی کے باعث نہ صرف مالی نقصان ہو سکتا ہے بلکہ قانونی پیچیدگیاں بھی پیدا ہو سکتی ہیں۔ اسی لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ناگزیر ہے۔
اختتام میں، بینک حکام نے کہا کہ چونکہ ریاست بھر میں خواتین سیلف ہیلپ گروپس بڑے پیمانے پر سرگرم ہیں، اس لیے ہر سطح پر بیداری اور نگرانی کی ضرورت ہے تاکہ ایسے واقعات کو روکا جا سکے۔
