حیدرآباد: طلبہ میں سائنسی سوچ اور تحقیق کے رجحان کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ سینئر کانگریس رہنما اور حکومت کے مشیر محمد علی شبیر نے بدھ کے روز کہا کہ بچوں کو کم عمری سے ہی سائنس اور اختراع کی جانب راغب کیا جانا چاہیے تاکہ وہ مستقبل میں ملک و قوم کی ترقی میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔
وہ کاماریڈی کے ودیا نکیتن اسکول میں 53ویں ریاستی سطح کی بچوں کی سائنس نمائش اور انسپائر پروجیکٹ کی نمائش کا افتتاح کر رہے تھے۔ اس موقع پر طلبہ کی جانب سے پیش کیے گئے ماڈلز اور تصورات نے شرکاء کی توجہ حاصل کی۔
نمائش میں پائیدار زراعت، پانی کے تحفظ، گرین انرجی، پلاسٹک کے متبادل، ریاضی، صحت، صفائی اور ماحولیاتی تحفظ جیسے موضوعات پر مبنی ماڈلز پیش کیے گئے۔ طلبہ نے عملی مسائل کے حل پر مبنی تخلیقی آئیڈیاز کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔
محمد علی شبیر نے کہا کہ اس طرح کی نمائشیں بچوں کی چھپی ہوئی تخلیقی صلاحیتوں کو سامنے لاتی ہیں۔ ان کے مطابق آج طلبہ جو ماڈلز تیار کر رہے ہیں، وہی کل ملک کی ترقی کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسے پروگرام بچوں کے اعتماد میں اضافہ کرتے ہیں اور انہیں مستقبل کا سائنس داں بننے کی راہ دکھاتے ہیں۔

تحقیق اور اختراع | Science Education
ظہیرآباد کے رکنِ پارلیمان سریش کمار شیٹکر نے بھی اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تحقیق اور اختراع قومی ترقی کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ انہوں نے انسپائر پروجیکٹس کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام طلبہ میں تحقیقی ذہن پروان چڑھانے میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر درست رہنمائی فراہم کی جائے تو ایک دیہی طالب علم بھی قومی سطح کی شخصیت بن سکتا ہے۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ مرکزی حکومت کی جانب سے فراہم کردہ تعلیمی اور اختراعی مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور معاشرے کے لیے کارآمد حل پیش کریں۔
وسیع شرکت | Science Education
اس تقریب میں ایم ایل سی سری پال ریڈی، سابق ڈی سی سی صدر کائیلا سرینواس راؤ، لائبریری چیئرمین مدّی چندراکانت، کانگریس رہنما، سرکاری افسران، اساتذہ اور والدین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
انسپائر پروجیکٹ کے تحت ملک بھر میں اسکولی طلبہ کو سائنسی تحقیق اور تجربات کی جانب راغب کیا جاتا ہے، تاکہ آنے والی نسلوں میں اختراع اور سائنسی شعور کو فروغ دیا جا سکے۔
