Metro Acquisition
حیدرآباد ۔ بی آر ایس کے رکن قانون ساز کونسل داسوجو سراون کمار نے حیدرآباد میٹرو کو ایل اینڈ ٹی سے حاصل کرنے کی مجوزہ حکومتی کوشش پر سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ اس عمل میں مالی بے ضابطگیوں کا امکان موجود ہے۔ انہوں نے اس پورے معاملے کی تفصیلی اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
تلنگانہ بھون میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے داسوجو سراون کمار نے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی کے میٹرو منصوبے سے متعلق بیانات پر تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے ایل اینڈ ٹی کے میٹرو اثاثوں کے حصول کے منصوبے پر کئی اہم سوالات ابھی تک جواب طلب ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت اس معاہدے کے ذریعے قیمتی میٹرو اثاثوں کی منتقلی کی کوشش کر رہی ہے۔ مزید برآں انہوں نے وزیر اعلیٰ کے اس دعوے پر بھی اعتراض کیا کہ تقریباً 30000 کروڑ روپے مالیت کے اثاثے 15000 کروڑ روپے کے آس پاس حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
میٹرو منصوبے کی مالیت پر سوالات | Metro Acquisition
داسوجو سراون کمار نے سابق بی آر ایس حکومت کے دور میں میٹرو منصوبے کے نفاذ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ آندھرا پردیش میں کانگریس حکومتوں کی وجہ سے منصوبے میں تاخیر ہوئی تھی۔ ان کے مطابق کے چندر شیکھر راؤ کی حکومت نے تاریخی اور مذہبی ڈھانچوں کو محفوظ رکھتے ہوئے منصوبے کے پہلے مرحلے کو مکمل کیا تھا۔
انہوں نے وزیر اعلیٰ کی جانب سے کے چندر شیکھر راؤ اور بی آر ایس کے ورکنگ صدر کے ٹی راما راؤ کے خلاف دیے گئے بیانات پر بھی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر میٹرو اثاثوں کی اصل مالیت 30000 کروڑ روپے ہے تو پھر ایل اینڈ ٹی انہیں کم قیمت پر فروخت کرنے پر کیوں آمادہ ہوگی۔
داسوجو سراون کمار نے الزام عائد کیا کہ ریاستی حکومت میٹرو منصوبے سے وابستہ مالی ذمہ داریوں اور واجبات کو اپنے اوپر لینے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے میٹرو اسٹیشنوں، سب اسٹیشنوں، تجارتی جائیدادوں اور منصوبے سے منسلک اراضی کے مختلف حصوں کے مستقبل پر بھی تشویش ظاہر کی۔
لہٰذا انہوں نے مطالبہ کیا کہ مجوزہ حصول کے پورے عمل کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور تمام تفصیلات عوام کے سامنے رکھی جائیں تاکہ کسی قسم کے شبہات باقی نہ رہیں۔
تحقیقات اور توسیعی منصوبوں پر وضاحت کا مطالبہ | Metro Acquisition
بی آر ایس رہنما نے کہا کہ مجوزہ حصول کے معاملے میں بڑے مالی مفادات وابستہ ہیں، اس لیے حکومت کو فوری طور پر آزادانہ تحقیقات کا حکم دینا چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حصول کے عمل سے متعلق تمام حقائق عوامی سطح پر ظاہر کیے جائیں۔
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ کانگریس حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد میٹرو منصوبے سے وابستہ بعض عہدیداروں پر دباؤ ڈالا گیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے ہائی ٹیک سٹی سے شمش آباد تک مجوزہ میٹرو فیز 2 منصوبے کی منسوخی پر بھی سوالات اٹھائے۔
ان کے مطابق اس منصوبے کی تخمینی لاگت 6200 کروڑ روپے تھی اور حکومت کو عوام کو یہ بتانا چاہیے کہ اسے منسوخ کرنے کی وجوہات کیا تھیں۔ چنانچہ انہوں نے اس فیصلے پر مکمل وضاحت کا مطالبہ کیا۔
داسوجو سراون کمار نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ بار بار کوششوں کے باوجود موجودہ حکومت میٹرو فیز 2 کے لیے ضروری منظوریوں اور فنڈنگ کے حصول میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کانگریس کے اراکین پارلیمان نے اس معاملے کو پارلیمنٹ میں زیادہ مؤثر انداز میں کیوں نہیں اٹھایا۔
ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے کی کوشش | Metro Acquisition
دوسری جانب انہوں نے وزیر اعلیٰ کی جانب سے مرکزی وزیر جی کشن ریڈی اور کے ٹی راما راؤ پر میٹرو توسیع میں تاخیر کے حوالے سے لگائے گئے الزامات پر بھی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت منصوبے کو درپیش چیلنجز حل کرنے کے بجائے ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔
بی آر ایس کی جانب سے حیدرآباد میٹرو کے مجوزہ حصول پر اٹھائے گئے سوالات نے اس معاملے کو ایک اہم سیاسی بحث میں تبدیل کر دیا ہے۔ داسوجو سراون کمار کا مطالبہ ہے کہ اثاثوں کی مالیت، مالی ذمہ داریوں، منصوبے کی شفافیت اور میٹرو کی آئندہ توسیع کے بارے میں حکومت مکمل وضاحت فراہم کرے تاکہ عوام کے سامنے تمام حقائق واضح ہو سکیں۔
➡️ మెట్రో కొనుగోలు పేరుతో ₹30,000 కోట్ల భారీ కుంభకోణం జరిగిందని ఎమ్మెల్సీ డా. శ్రవణ్ దాసోజు
➡️ మార్కెట్ విలువ ₹30,000 కోట్లుగా ఉన్న మెట్రో ఆస్తులను కేవలం ₹15,000 కోట్లకే కొనుగోలు చేస్తున్నామని చెప్పడం వెనుక భారీ అవినీతి దాగి ఉందని విమర్శ.
➡️ PPP ఒప్పందం ప్రకారం ఎల్&టీ… pic.twitter.com/vHSckvuC61
— Prof Dasoju Sravan Kumar (@sravandasoju) June 15, 2026
