Eidgah Land
حیدرآباد ۔ بی آر ایس کے رکن قانون ساز کونسل داسوجو سراون کمار نے الزام عائد کیا ہے کہ تلنگانہ حکومت خیرت آباد میں واقع عیدگاہ کی اراضی کو اپنے استعمال میں لانے کی کوشش کر رہی ہے اور مقامی مسلم برادری کو دی گئی سابقہ یقین دہانیوں کو نظر انداز کر رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے مقامی باشندوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں داسوجو سراون کمار نے دعویٰ کیا کہ بنجارہ ہلز میں واقع اس زمین پر حکومت ایک سرکاری عمارت کی تعمیر کا کام شروع کر چکی ہے۔ ان کے مطابق مقامی مسلمان طویل عرصے سے اس مقام کو عید کی نمازوں اور مذہبی اجتماعات کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بنجارہ ہلز کے سروے نمبر 10 میں واقع یہ اراضی خیرت آباد اسمبلی حلقے کے حدود میں آتی ہے۔ مزید برآں، ان کا دعویٰ تھا کہ مختلف حکومتوں نے برسوں تک مقامی برادری کے ساتھ باہمی مفاہمت کے تحت اس مقام کو خالی رکھا اور یقین دہانی کرائی تھی کہ یہ جگہ عیدگاہ کے طور پر دستیاب رہے گی۔
عیدگاہ کی اراضی پر سیاسی اعتراضات میں اضافہ | Eidgah Land
داسوجو سراون کمار نے اس اقدام کو غیر جمہوری قرار دیتے ہوئے حکومت پر مسلم برادری سے کیے گئے وعدوں کو فراموش کرنے کا الزام لگایا۔ ان کے مطابق مقامی افراد کے تحفظات کے باوجود حکام اس منصوبے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ مقام صرف نماز عید تک محدود نہیں بلکہ برسوں سے سماجی اور مذہبی سرگرمیوں کا مرکز بھی رہا ہے۔ چنانچہ مقامی برادری اس زمین کو اپنی مذہبی شناخت اور اجتماعی روایات سے جڑا ہوا مقام تصور کرتی ہے۔
سابق یقین دہانیوں کا احترام کرنے کا مطالبہ | Eidgah Land
بی آر ایس رہنما نے یاد دلایا کہ سابق وزیر اعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ نے گزشتہ بی آر ایس حکومت کے دوران اسی میدان سے عید تحفہ پروگرام کا آغاز کیا تھا۔ ان کے مطابق یہ حقیقت اس مقام کی مذہبی اور سماجی اہمیت کو مزید واضح کرتی ہے۔
مزید برآں، داسوجو سراون کمار نے الزام لگایا کہ سرکاری استعمال کے لیے زمین کی تبدیلی مقامی عوامی خواہشات کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔ لہٰذا انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عیدگاہ کی اراضی کو محفوظ رکھا جائے اور ماضی میں دی گئی یقین دہانیوں کا احترام کیا جائے۔
تاحال تلنگانہ حکومت نے بی آر ایس رہنما کی جانب سے عائد کیے گئے ان الزامات پر کوئی سرکاری ردعمل جاری نہیں کیا ہے۔ تاہم، یہ معاملہ سیاسی حلقوں اور مقامی برادری کے درمیان موضوع بحث بنتا جا رہا ہے۔
