Read in English  
       
KCR

حیدرآباد: تلنگانہ ہائی کورٹ نے جمعہ کے روز بھارت راشٹرا سمیتی کے سربراہ کے چندر شیکھر راؤ KCRاور رکن اسمبلی ٹی ہریش راؤ کو کالیشورم پراجیکٹ بیراجوں میں بے ضابطگیوں سے متعلق پی سی گھوش کمیشن رپورٹ کے خلاف دائر عرضیوں پر عبوری راحت دینے سے انکار کردیا۔

عدالت نے واضح کیا کہ وہ کمیشن کی رپورٹ پر حکم امتناعی جاری نہیں کرے گی۔ اگر یہ رپورٹ عوامی سطح پر موجود پائی جائے تو اسے فوری ہٹانے کی ہدایت دی گئی۔ ساتھ ہی حکومت کو تین ہفتوں کے اندر کاؤنٹر داخل کرنے کا حکم دیا گیا اور کیس کی سماعت چار ہفتوں کے لئے ملتوی کردی گئی۔

ایڈووکیٹ جنرل نے بنچ کو بتایا کہ حکومت کوئی بھی کارروائی اسمبلی میں بحث کے بعد ہی کرے گی۔ اس ضمن میں کابینہ کے فیصلے کی ایک نقل عدالت میں پیش کی گئی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ دونوں درخواست گزار ارکان اسمبلی ہیں اور کوئی بھی عمل آئینی طریقہ کار کے مطابق ہی ہوگا۔

بنچ نے حکومت سے استفسار کیا کہ رپورٹ پر کارروائی اس کے ایوان میں پیش ہونے سے قبل ہوگی یا بعد میں۔ اس پر ایڈووکیٹ جنرل نے جواب دیا کہ پہلے رپورٹ ایوان میں رکھی جائے گی اور اس کے بعد ہی کارروائی ہوگی۔

نوٹس کی نوعیت پر بھی دلائل مکمل ہوئے۔ ہریش راؤ کے وکیل آریما سندرم نے سوال اٹھایا کہ آخر سیکشن 5(1) کا نوٹس کیوں دیا گیا جبکہ 8B نوٹس دیا جانا چاہئے تھا۔ ایڈووکیٹ جنرل نے وضاحت کی کہ جاری کردہ نوٹس کی نوعیت 8B کے مساوی ہی ہے۔

کے سی آر کے وکیل ڈاما سیشادری نائیڈو اور سندرم نے یہ دلیل دی کہ میڈیا میں رپورٹ کے افشا ہونے سے ان کے موکلین کی شہرت کو نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے عدالت سے اپیل کی کہ رپورٹ کی بنیاد پر کوئی سرکاری کارروائی نہ کی جائے۔