حیدرآباد: [en]Police Settlements[/en] پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے تلنگانہ ہائی کورٹ نے پولیس محکمے کو تنبیہ کی ہے کہ وہ شہری معاملات میں مداخلت سے باز رہے اور تھانوں کو “تصفیہ مراکز” میں تبدیل کرنے کی غیر قانونی روش ترک کرے۔ عدالت نے کہا کہ یہ طرز عمل عدالتی احکامات اور قانونی طریقہ کار کی صریح خلاف ورزی ہے۔
جسٹس تڈاکمالہ وِنود کمار نے ایک شہری مقدمے کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ ریاست بھر کے پولیس اسٹیشنز قانون نافذ کرنے والے ادارے کے بجائے گفت و شنید کے مراکز میں بدل چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے قیام کے بعد سے یہ رویہ مزید سنگین ہو گیا ہے، جو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
عدالت ایک عرضی پر سماعت کر رہی تھی جو سودرشن نامی شہری نے دائر کی تھی، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ ناگول پولیس اسٹیشن کے اہلکار انہیں 55 لاکھ روپئے کی ادائیگی پر مجبور کر رہے ہیں تاکہ بندلہ گوڑہ کرشنا نگر میں واقع پلاٹ نمبر 65 پر جاری تنازعہ کو حل کیا جا سکے۔ عرضی گزار کے مطابق پولیس شہری اور فوجداری مقدمات کو دباؤ کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔
جسٹس ونود کمار نے رچہ کونڈا پولیس کمشنر سدھیر بابو کو ویڈیو کانفرنس کے ذریعے اور ناگول سرکل انسپکٹر کو عدالت میں طلب کیا۔ جج نے اسٹیشن میں صبح سے شام تک اراضی مالک کو غیر قانونی طور پر روکنے پر عہدیداروں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ عدالت نے 19 جون کو صبح 9 بجے سے رات 10 بجے تک کی سی سی ٹی وی فوٹیج پیش کرنے کی ہدایت دی اور کیس کو آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دیا۔
جسٹس ونود کمار نے ذاتی تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ خود ایک بار تھانے میں عام شہری کی حیثیت سے پہنچے تو انہیں نظر انداز کیا گیا۔ انہوں نے ایک افسر کو سڑک پر ایک شہری کو زد و کوب کرتے ہوئے بھی دیکھا، جس سے عوام کی حالتِ زار کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔
ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ پولیس افسران کو عدالت کی جاری کردہ حکم امتناعی کو نظر انداز کرنے کا کوئی اختیار حاصل نہیں ہے اور انہیں جائیداد سے متعلق شہری تنازعات میں کسی بھی بہانے مداخلت سے گریز کرنا چاہیے۔
عدالت نے ڈی جی پی کو ہدایت دی کہ وہ موجودہ پولیس طریقہ کار کا جائزہ لیں اور تمام پولیس اسٹیشنوں میں واضح ہدایات جاری کریں کہ اس قسم کی مداخلت ناقابل قبول ہے۔ ان ہدایات کو سرکاری ویب سائٹ پر اپلوڈ کرنے اور تمام تھانوں میں نمایاں طور پر آویزاں کرنے کی ہدایت دی گئی۔
عدالت نے یہ بھی کہا کہ ایسے معاملات میں ملوث اہلکاروں کے خلاف واضح تادیبی کارروائی کی جائے تاکہ محکمہ پولیس کو واضح پیغام دیا جا سکے۔ عدالت نے یاد دہانی کرائی کہ تحقیقات کا بہانہ بنا کر قانونی حدود کو عبور کرنا ناقابل قبول ہے، اور پولیس اسٹیشنز کو “سیٹلمنٹ سینٹر” میں تبدیل ہونے نہیں دیا جا سکتا۔ عدالت نے توقعات اور عملی صورتحال کے درمیان فرق کو تشویشناک قرار دیا۔

















































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































