Read in English  
       
Defamation Case

حیدرآباد: بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ اور سرسلہ کے رکن اسمبلی کے ٹی راما راؤ نے حیدرآباد سٹی سول کورٹ میں یونین وزیر مملکت برائے داخلہ بنڈی سنجے کمار کے خلاف 10 کروڑ روپئے کا Defamation Case دائر کیا ہے۔ اس مقدمے میں کئی میڈیا اداروں اور سوشیل میڈیا پلیٹ فارمز کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔

کے ٹی آر نے الزام لگایا کہ بنڈی سنجے نے 8 اگست 2025 کو ان پر جھوٹے اور توہین آمیز ریمارکس کیے، جنہیں فون ٹیپنگ، اسپیشل انویسٹی گیشن بیورو کے غلط استعمال اور مالی بے قاعدگیوں سے جوڑا گیا۔ ان کے مطابق یہ تبصرے سیاسی بدنیتی پر مبنی تھے اور ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے مقصد سے کیے گئے۔

میڈیا ادارے اور پلیٹ فارمز بھی فریق

درخواست میں اے بی این تلگو، این ٹی وی، ٹی وی 5، وی 6 اور اے این این تلگو جیسے نشریاتی اداروں کے نام شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انڈیا ٹوڈے، این ڈی ٹی وی، ڈکن ہیرالڈ اور ٹائمز آف انڈیا جیسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو بھی فریق بنایا گیا۔ کے ٹی آر نے ایکس، یوٹیوب، گوگل اور میٹا جیسے سوشیل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی الزامات عائد کیے کہ انہوں نے ان جھوٹے بیانات کو پھیلایا۔

کے ٹی آر کے مطابق یہ مواد ان کی عوامی شبیہ کو خراب کرنے کے لیے شائع کیا گیا۔ ان کی قانونی ٹیم ایم/ایس پی وی جاننی اینڈ ایسوسی ایٹس نے 11 اگست کو بنڈی سنجے کو لیگل نوٹس بھیجا تھا، لیکن معافی نہ مانگنے پر عدالت سے رجوع کیا گیا۔

معافی اور مواد ہٹانے کا مطالبہ

کے ٹی آر نے عدالت سے مطالبہ کیا کہ بنڈی سنجے بغیر شرط معافی مانگیں اور مزید توہین آمیز مواد شائع یا نشر کرنے سے روکا جائے۔ ساتھ ہی میڈیا پورٹلز اور آن لائن پلیٹ فارمز سے تمام جھوٹی رپورٹس، ویڈیوز اور پوسٹس فوری ہٹانے کا حکم دیا جائے۔

عدالت نے Defamation Case قبول کرتے ہوئے نوٹس جاری کر دیے ہیں اور سماعت اس ماہ کے آخر میں مقرر کی گئی ہے۔