Read in English  
       
Labour Excellence Awards

حیدرآباد ۔ تلنگانہ حکومت نے محنت کش طبقے کے لیے ایک اہم اور تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے ممتاز خدمات انجام دینے والے افراد کے اعزاز میں نئے ایوارڈز کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ ریاستی وزیر محنت، روزگار اور کانکنی ڈاکٹر جی ویویک وینکٹ سوامی نے اس فیصلے کا اعلان ایک باوقار تقریب کے دوران کیا۔ یہ اعلان یوم مئی کی تقریبات کے موقع پر کیا گیا، جو مزدوروں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ مزید برآں، اس اقدام کو محنت کشوں کی خدمات کے اعتراف کی سمت ایک مضبوط پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

پس منظر میں دیکھا جائے تو یہ ایوارڈز مرحوم پی جناردھن ریڈی کی طویل جدوجہد کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے متعارف کرائے گئے ہیں۔ وزیر نے واضح کیا کہ پی جناردھن ریڈی نے اپنی سیاسی زندگی میں مسلسل مزدوروں، محنت کشوں اور محروم طبقات کے حقوق کے لیے آواز بلند کی۔ اسی لیے حکومت نے ان کی خدمات کو مستقل یادگار بنانے کے لیے یہ فیصلہ کیا۔ تاہم، اس فیصلے کے پیچھے سابق ایم ایل سی رامولو نائک کی پیش کردہ نمائندگی بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔

پی جے آر ایوارڈز کا اجرا اور اہمیت | Labour Excellence Awards

اس اقدام کے تحت حکومت ہر سال یوم مئی کے موقع پر یہ ایوارڈز پیش کرے گی، جس سے اس دن کی اہمیت مزید بڑھ جائے گی۔ مزید یہ کہ لیبر کمشنر کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس ایوارڈ کے لیے تفصیلی رہنما اصول اور اہلیت کے معیار تیار کریں۔ اس کے نتیجے میں اگلے سال یوم مئی سے ان ایوارڈز کا باضابطہ آغاز ہوگا۔

اسی تقریب میں وزیر نے شرما شکتی ایوارڈز بھی تقسیم کیے، جن میں ٹریڈ یونین قائدین، محنت کشوں اور انتظامی نمائندوں کو اعزازات دیے گئے۔ یہ ایوارڈز ان اداروں کو بھی دیے گئے جنہوں نے مؤثر انداز میں لیبر قوانین پر عمل درآمد کیا۔ علاوہ ازیں، ان رہنماؤں کو بھی سراہا گیا جنہوں نے مزدوروں کے حقوق کے لیے نمایاں خدمات انجام دیں۔ مجموعی طور پر 100 سے زائد افراد کو یہ اعزازات دیے گئے، جنہوں نے حکومت کا شکریہ ادا کیا۔

فلاحی اقدامات اور مزدوروں کی مدد | Labour Excellence Awards

دوسری جانب، تقریب کے دوران وزیر نے فلاحی اقدامات کا بھی اعلان کیا جو مزدوروں کی بہبود سے متعلق ہیں۔ اس ضمن میں دو مرحوم گیگ ورکروں کے خاندانوں کو مالی امداد فراہم کی گئی، جو اپنی ڈیوٹی کے دوران جان کی بازی ہار گئے تھے۔ ہر خاندان کو 5 لاکھ روپے کا چیک دیا گیا، جس سے حکومت کے وعدے کی تکمیل ہوئی۔

مزید برآں، وزیر نے تلنگانہ گیگ اور پلیٹ فارم ورکرز یونین کے رہنما شیخ صلاح الدین کی کوششوں کو سراہا۔ ان کے مطابق، انہوں نے اس معاملے کو بھرپور طریقے سے اٹھایا اور متاثرہ خاندانوں تک معاوضہ پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی طرح یہ اقدام مزدوروں کے تحفظ کے لیے حکومتی سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔

اسی پروگرام کے دوران ایک کتابچہ بھی جاری کیا گیا جس کا عنوان “Achievements and Activities Report” تھا۔ اس میں محنت، روزگار، تربیت، فیکٹریز اور بوائلرز کے شعبوں کی کارکردگی کو تفصیل سے پیش کیا گیا۔ مزید یہ کہ اس رپورٹ میں مستقبل کی ترجیحات اور پالیسی تجاویز بھی شامل تھیں تاکہ ان شعبوں کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

آخر میں، یوم مئی کی یہ تقریب محنت کشوں کے اعتراف، فلاحی اقدامات اور پالیسی سمت کا جامع امتزاج ثابت ہوئی۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف مزدوروں کی خدمات کو سراہا گیا بلکہ مستقبل کے لیے ایک مضبوط فریم ورک بھی متعین کیا گیا۔