Read in English  
       
Result Stress

حیدرآباد ۔ حیدرآباد پولیس کمشنر و سینئر آئی پی ایس افسر وی سی سجنار نے تلنگانہ ایس ایس سی (جماعت 10 )کے نتائج کے موقع پر طلبہ کو گھبرانے سے گریز کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے والدین سے بھی کہا کہ وہ اس حساس مرحلے میں اپنے بچوں کو جذباتی طور پر سہارا دیں۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امتحانی نتائج کو زندگی کا فیصلہ کن معیار نہ سمجھا جائے۔

انہوں نے حالیہ انٹرمیڈیٹ امتحانات کے بعد پیش آنے والے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نمبر کسی بھی فرد کے مستقبل کا تعین نہیں کرتے۔ مزید برآں، انہوں نے والدین کو مشورہ دیا کہ وہ نتائج سے قطع نظر اپنے بچوں کو محبت اور قبولیت دیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا کہ بچوں پر غیر ضروری توقعات اور دباؤ ڈالنا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

سجنار نے کہا کہ نتائج کے اعلان کے بعد والدین کو اپنے بچوں کے رویے پر خاص توجہ دینی چاہیے۔ اگر کوئی بچہ خاموش، الگ تھلگ یا ذہنی طور پر پریشان نظر آئے تو خاندان کو اس کے قریب رہنا چاہیے۔ اسی دوران انہوں نے یہ بھی کہا کہ والدین کو بچوں کے ساتھ وقت گزارنا چاہیے تاکہ ان کے ذہن سے خوف کو دور کیا جا سکے۔

نتائج صرف ایک مرحلہ ہیں | Result Stress

سجنار نے طلبہ کو یقین دلایا کہ جماعت 10 کے نتائج زندگی کا رخ تبدیل نہیں کرتے۔ ان کے مطابق امتحانات محض ایک عارضی مرحلہ ہوتے ہیں جو وقت کے ساتھ گزر جاتا ہے۔ لہٰذا طلبہ کو ان نتائج کو حد سے زیادہ اہمیت نہیں دینی چاہیے۔

انہوں نے طلبہ کو خبردار کیا کہ کم نمبر یا ناکامی کی صورت میں کسی بھی انتہا پسندانہ قدم سے گریز کریں۔ ان کے مطابق ایسے فیصلے خاندانوں کے لیے مستقل دکھ کا سبب بنتے ہیں اور مسائل کا حل نہیں ہوتے۔ اس کے برعکس ناکامی کو کامیابی کی پہلی سیڑھی کے طور پر دیکھنا چاہیے۔

مزید برآں، انہوں نے یاد دلایا کہ دنیا کی کئی معروف شخصیات نے تعلیمی زندگی میں مشکلات کا سامنا کیا مگر محنت اور عزم کے ذریعے کامیابی حاصل کی۔ اسی لیے طلبہ کو حوصلہ اور اعتماد کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔

ناکامی سے سیکھنے کا پیغام | Result Stress

اسی دوران انہوں نے اساتذہ سے بھی اپیل کی کہ وہ اس حساس وقت میں طلبہ سے رابطہ رکھیں۔ اساتذہ کو چاہیے کہ وہ طلبہ کو یقین دلائیں کہ ناکامی عارضی ہوتی ہے اور مستقبل میں بے شمار مواقع موجود ہوتے ہیں۔

آخر میں سجنار نے کہا کہ زندگی امتحانی نمبروں سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ انہوں نے طلبہ کو مشورہ دیا کہ اگر وہ دباؤ، خوف یا ذہنی پریشانی محسوس کریں تو والدین یا دوستوں سے کھل کر بات کریں۔

وہ پیغام اس بات کی یاد دہانی ہے کہ امتحانات زندگی کا ایک حصہ ضرور ہیں مگر مکمل حقیقت نہیں۔ لہٰذا متوازن سوچ اور جذباتی تعاون کے ذریعے طلبہ بہتر مستقبل کی جانب پیش قدمی کر سکتے ہیں۔