Rural Employment Policy
حیدرآباد ۔ تلنگانہ حکومت نے یکم جولائی سے مجوزہ وی بی گرام جی قانون کے نفاذ سے قبل مختلف پالیسی متبادلات اور حکمت عملیوں کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔ ریاستی وزیر دیہی ترقی و پنچایت راج داناسری انسویا سیتکّا نے سیکریٹریٹ میں اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس منعقد کیا جس میں سینئر حکام نے مجوزہ قانون کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی بریفنگ دی۔
حکام نے وزیر کو مجوزہ قانون کی اہم دفعات سے آگاہ کیا اور بتایا کہ اس کے نفاذ سے دیہی روزگار، ریاستی مالیات اور مختلف ترقیاتی پروگراموں پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ مزید برآں، اجلاس میں ممکنہ چیلنجز اور ان کے تدارک کے لیے دستیاب متبادل راستوں پر بھی غور کیا گیا۔
دیہی مزدوروں کے مفادات کا جائزہ | Rural Employment Policy
اجلاس کے دوران مجوزہ فریم ورک کا موازنہ موجودہ مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی اسکیم سے کیا گیا۔ حکام نے زرعی موسم کے دوران روزگار کے کاموں میں 60 دن کے وقفے سے متعلق تجاویز پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
اس کے علاوہ فنڈز کی تقسیم کے مجوزہ طریقہ کار اور مرکز و ریاست کے درمیان اخراجات کی شراکت کے تناسب میں ممکنہ تبدیلیوں کا جائزہ لیا گیا۔ حکام نے ایسے متبادل اقدامات بھی پیش کیے جن کے ذریعے دیہی مزدوروں کے لیے روزگار کے مواقع بلا تعطل جاری رکھے جا سکیں۔
اجلاس میں اس امکان پر بھی غور کیا گیا کہ ریاست اپنی سطح پر الگ روزگار گارنٹی قانون متعارف کر سکتی ہے۔ چنانچہ مختلف قانونی اور انتظامی پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہوئے ممکنہ فوائد اور چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
دیگر ریاستوں کے ماڈلز کا مطالعہ | Rural Employment Policy
حکام نے مرکزی طور پر مقرر کردہ فنڈنگ سے زیادہ اخراجات پورے کرنے کے مختلف طریقوں کا بھی جائزہ لیا۔ مزید برآں، مجوزہ مالیاتی فارمولے میں تبدیلی کے لیے مرکز سے رجوع کرنے کے امکانات پر بھی غور کیا گیا۔
دریں اثنا، سیتکّا نے حکام کو ہدایت دی کہ وہ کرناٹک، کیرالہ اور جھارکھنڈ کی جانب سے اختیار کیے گئے طریقہ کار کا تفصیلی مطالعہ کریں۔ انہوں نے خاص طور پر دیہی روزگار کے حقوق، مالی بوجھ اور وفاقی اصولوں سے متعلق امور کا جائزہ لینے پر زور دیا۔
وزیر نے کہا کہ ریاستی حکومت دیہی مزدوروں کے مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ روزگار کے مواقع متاثر نہ ہوں۔ ان کے مطابق روزگار گارنٹی پروگرام تلنگانہ کے لاکھوں دیہی خاندانوں کے لیے آمدنی اور معاشی استحکام کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
سیتکّا نے واضح کیا کہ اگر نئے قانون کے نتیجے میں کوئی منفی اثرات سامنے آتے ہیں تو حکومت ان کے ازالے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حتمی فیصلہ کرنے سے قبل مزید مشاورت اور تفصیلی جائزہ لیا جائے گا تاکہ دیہی عوام کے مفادات کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
*జులై 1 నుంచి అమల్లోకి రానున్న వీబీ జీ రామ్జీపై తెలంగాణ ప్రభుత్వ సన్నాహాలు*
*ప్రత్యామ్నాయాలపై ఉన్నతస్థాయి సమీక్ష నిర్వహించిన మంత్రి సీతక్క*
*కొత్త చట్టంతో జరిగే నష్టాన్ని భర్తి చేసే విధంగా చర్యలు తీసుకుంటాం-మంత్రి సీతక్క*
జులై 1 నుంచి కేంద్ర ప్రభుత్వం ప్రతిపాదించిన… pic.twitter.com/gWLXtZos4g
— IPRDepartment (@IPRTelangana) June 8, 2026
