حیدرآباد: ریاستی وزیر اظہر الدین نے کہا ہے کہ تلنگانہ کھیلوں کی صلاحیت کے مرکز کے طور پر ابھر چکا ہے اور متعدد کھلاڑی عالمی سطح تک پہنچے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کئی ایتھلیٹس گوپی چند اکیڈمی میں تربیت پاتے ہیں، جبکہ کھیل کے میدان اب بھی کھلاڑیوں کی نشوونما میں بنیادی کردار ادا کر رہے ہیں۔ وزیر نے کہا کہ حکومت دیگر کھیلوں کے ساتھ ساتھ فٹ بال کی بھی بھرپور سرپرستی کر رہی ہے۔
یہ گفتگو انہوں نے تلنگانہ رائزنگ گلوبل سمٹ کے دوسرے دن “Olympic Gold Quest” سیشن کے دوران کی، جہاں انیل کمبلے، پُلیلا گوپی چند، پی وی سندھو، امباٹی رائیڈو اور جوالا گٹہ بھی شریک ہوئے۔
اظہر الدین نے کہا کہ سندھو، سائنا نہوال اور جوالا گٹہ نے تلنگانہ کا نام عالمی سطح پر روشناس کروایا ہے۔ مزید یہ کہ کھلاڑیوں کو اپنے کیریئر کی تعمیر کے دوران مالی رکاوٹوں کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ریاستی اسپورٹس پالیسی مضبوط سہولیات دیتی ہے، مگر کھلاڑیوں کو مسلسل حکومتی تعاون کی بھی ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مالی امداد اور مستحکم ملازمتیں ضروری ہیں تاکہ ایتھلیٹس بے فکری کے ساتھ آگے بڑھ سکیں۔
مضبوط ڈھانچہ، حوصلہ افزائی اور مستقل منصوبہ بندی پر زور | Sports Vision
پی وی سندھو نے کہا کہ ایک کھلاڑی کی کامیابی کئی عوامل سے جڑی ہوتی ہے، جن میں ڈھانچہ جاتی سہولیات مرکزی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تربیت یافتہ کوچز بھی کامیابی کی بنیاد رکھتے ہیں۔ مزید یہ کہ کھلاڑیوں کو ہر مرحلے پر حوصلہ افزائی درکار ہوتی ہے۔ سندھو نے کہا کہ وزیراعلیٰ ریونت ریڈی کھیلوں کے لیے بھرپور تعاون کر رہے ہیں، اسی لیے آئندہ برسیں تلنگانہ کے کھلاڑیوں کے لیے نہایت امید افزا ہیں۔

پُلیلا گوپی چند نے کہا کہ حیدرآباد ملک کے بہترین شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ کے ویژن 2047 کو بھی سراہا اور اسے متاثر کن قرار دیا۔ ان کے مطابق، اسپورٹس سٹی، اسپورٹس یونیورسٹی اور اسپورٹس ہبز جیسے منصوبے وزیراعلیٰ کی کھیلوں سے ذاتی دلچسپی ظاہر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات سے بچوں میں فٹنس بہتر ہوگی اور وہ کھیلوں میں فعال طور پر حصہ لیں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ ملک کے فٹ ترین رہنماؤں میں سے ایک ہیں۔
مستقبل کی سمت اور کھلاڑیوں کے لیے بہتر مواقع | Sports Vision
گوپی چند نے کہا کہ یہ سب اقدامات تلنگانہ کے کھیلوں کے مستقبل کو مضبوط بنیاد فراہم کریں گے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ریاست میں کھیلوں کے لیے جاری اصلاحات نوجوانوں کے امکانات کو وسعت دیں گی اور عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کے لیے بہتر تربیت، ڈھانچہ اور ماحول فراہم کریں گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومتی دلچسپی، مالی معاونت اور عالمی معیار کی تربیت کھیلوں کے شعبے میں نئے امکانات پیدا کرے گی اور ریاست کے اسپورٹس ایکو سسٹم کو مزید مستحکم بنائے گی۔
