Read in English  
       
Kaleshwaram Scam

حیدرآباد: تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ بھارت راشٹرا سمیتی کے ورکنگ صدر کے ٹی راما راؤ عوام کی توجہ Kaleshwaram Scam سے ہٹاکر بھارتیہ جنتا پارٹی کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے گاندھی خاندان کے خلاف کے ٹی آر کے توہین آمیز بیانات کی بھی شدید مذمت کی۔

گاندھی بھون میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ کے ٹی آر اس خاندان پر تبصرہ کرنے کی حیثیت نہیں رکھتے جس نے ملک کیلئے سب کچھ قربان کیا۔ ان کا الزام تھا کہ کے ٹی آر کے بیانات وزیر اعظم نریندر مودی کو خوش کرنے اور کالیشورم پراجیکٹ میں بدعنوانی سے عوام کی توجہ ہٹانے کیلئے دیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ بند اقدام ہے تاکہ اصل ذمہ داروں کو بچایا جا سکے۔

بی جے پی اور بی آر ایس کی مفاہمت کا الزام

ٹی پی سی سی صدر نے کہا کہ بی جے پی قائدین کھل کر کے ٹی آر کی پشت پناہی کر رہے ہیں تاکہ کالیشورم لفٹ ایریگیشن اسکام کی جانچ میں رکاوٹ ڈالی جا سکے۔ انہوں نے Kaleshwaram Scam کے علاوہ مزید الزام لگایا کہ کانگریس کے امیدوار سدرشن ریڈی کی نائب صدر جمہوریہ کے انتخاب میں حمایت سے انکار، بی آر ایس اور این ڈی اے کے درمیان خفیہ سمجھوتے کی واضح نشانی ہے۔ گوڑ کے مطابق بی آر ایس کی رہنما کویتا کے حالیہ بیانات بھی بی جے پی سے ذہنی ہم آہنگی ظاہر کرتے ہیں۔

مہیش کمار گوڑ نے الزام لگایا کہ مرکزی وزراء جی کشن ریڈی اور بنڈی سنجے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ کشن ریڈی نے پہلے وعدہ کیا تھا کہ اگر کیس سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن کو دیا گیا تو وہ 48 گھنٹوں میں اسکام کو بے نقاب کریں گے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اب وہ وعدہ کہاں ہے؟ ان کی خاموشی بہت کچھ بیان کر رہی ہے۔

سیاسی مفاد کیلئے جانچ میں رکاوٹ

ٹی پی سی سی صدر نے دعویٰ کیا کہ بی آر ایس اور بی جے پی کے درمیان پس پردہ معاہدے کی وجہ سے اسکام کی جانچ رکی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ محض اتفاق نہیں بلکہ مستقبل میں سیاسی انضمام کی تیاری کا حصہ لگتا ہے۔

انہوں نے دوٹوک کہا کہ کانگریس اس معاملے کو دبنے نہیں دے گی۔ ان کے مطابق عوامی مفاد میں اصل حقائق سامنے آنا ضروری ہیں اور کسی سیاسی سمجھوتے کے تحت یہ معاملہ ختم نہیں ہونے دیا جائے گا۔