حیدرآباد ۔ مرکزی حکومت نے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام علاقوں کو ہدایت دی ہے کہ دو سال سے کم عمر بچوں کو کھانسی اور زکام کے سیرپ نہ تجویز کیے جائیں۔ Cough Syrup کو لے کر یہ مشورہ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ہیلتھ سروسز نے جمعہ کے روز جاری کیا۔
وزارت صحت کے مطابق یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب مدھیہ پردیش میں بچوں کی اموات کی خبریں آلودہ سیرپ سے جوڑی گئیں۔ تاہم، وزارت نے کہا کہ ریاست سے لیے گئے نمونوں میں ڈائی ایتھیلین گلائکول یا ایتھیلین گلائکول موجود نہیں پایا گیا۔ یہ کیمیکلز گردوں کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
ڈی جی ایچ ایس کے مشورے میں کہا گیا کہ پانچ سال سے کم عمر بچوں کو کھانسی کا سیرپ صرف ناگزیر صورت میں دیا جائے۔ بڑے بچوں کے لیے بھی ڈاکٹرز کو دوا دینے سے پہلے مکمل جانچ کرنی ہوگی اور صرف کم سے کم خوراک مختصر مدت کے لیے تجویز کرنی ہوگی۔
غیر دوائی تدابیر پر زور
مشورے میں والدین اور ڈاکٹروں کو ہدایت دی گئی کہ وہ ہائیڈریشن، آرام اور معاون دیکھ بھال جیسے غیر دوائی طریقوں کو ترجیح دیں۔ بتایا گیا کہ زیادہ تر بچوں میں کھانسی کی بیماریاں قدرتی طور پر ٹھیک ہو جاتی ہیں۔
ڈاکٹر سنیتا شرما نے کہا کہ ڈاکٹروں اور کیمسٹوں کو کھانسی کے سیرپ کا استعمال محتاط انداز میں کرنا ہوگا۔ انہوں نے ہسپتالوں کو ہدایت دی کہ وہ صرف انہی مصنوعات کی خریداری کریں جو گڈ مینوفیکچرنگ پریکٹسز کے تحت تیار کی گئی ہوں اور دواسازی معیار کے اجزاء پر مشتمل ہوں۔
تحقیقات اور نمونوں کی رپورٹ
وزارت صحت نے بتایا کہ این سی ڈی سی، این آئی وی اور سی ڈی ایس سی او کی مشترکہ ٹیم نے مدھیہ پردیش سے نمونے حاصل کیے جن میں ڈائی ایتھیلین گلائکول اور ایتھیلین گلائکول کی موجودگی ثابت نہیں ہوئی۔ ریاستی ایف ڈی اے نے بھی تین نمونوں کی جانچ کی اور کوئی آلودگی نہیں پائی۔
مزید برآں، این آئی وی پونے نے خون اور اسپائنل فلوئڈ نمونوں کی جانچ کے بعد ایک بچے میں لیپٹوسپائروسس کی موجودگی کی تصدیق کی۔ اسی دوران پانی، ماحولیاتی نمونوں اور مچھروں کے ذریعے پھیلنے والے امراض کی بھی جانچ جاری ہے۔
وزارت نے راجستھان میں بچوں کی اموات کی خبروں پر وضاحت کی کہ متعلقہ Cough Syrup میں ڈیکسٹرو میتھورفین شامل تھا جو بچوں کے لیے تجویز نہیں کیا جاتا، لیکن اس میں پروپلین گلائکول شامل نہیں تھا جو ممکنہ آلودگی کا ذریعہ بنتا ہے۔
