Skill Development
حیدرآباد: تلنگانہ کے وزیر محنت، روزگار اور معدنیات ڈاکٹر جی وویک وینکٹ سوامی نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ ریاستی حکومت 2,000 کروڑ روپے کی لاگت سے تلنگانہ بھر میں 53 نئے ایڈوانسڈ ٹیکنالوجی سینٹرز قائم کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام کا مقصد جدید تکنیکی تعلیم اور ہنرمندی کی تربیت تک رسائی کو وسیع کرنا ہے، تاکہ نوجوانوں کو بدلتی ہوئی صنعتی ضروریات کے مطابق بہتر مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
وزیر نے یہ اعلان محبوب نگر ضلع کے راجاپور منڈل کے رنگاریڈی گوڑم میں ایک نئے ایڈوانسڈ ٹیکنالوجی سینٹر کے سنگ بنیاد رکھنے کے بعد کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت نے ہنرمندی کے فروغ اور روزگار کی فراہمی کو اپنی ترجیحات میں نمایاں مقام دیا ہے، کیونکہ موجودہ معاشی حالات میں صرف روایتی تعلیم کافی نہیں بلکہ عملی اور تکنیکی مہارت بھی ناگزیر ہو چکی ہے۔
بندش کے خطرے سے دوچار آئی ٹی آئیز کو جدید مراکز میں بدلنے کا دعویٰ | Skill Development
ڈاکٹر وویک وینکٹ سوامی نے کہا کہ حکومت نے بندش کے خطرے سے دوچار آئی ٹی آئیز کو جدید ایڈوانسڈ ٹیکنالوجی سینٹرز میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا تھا، اور اسی پالیسی کے تحت اب تک 65 مراکز کو تقریباً 2,200 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری سے اپ گریڈ کیا جا چکا ہے۔ ان کے مطابق یہ تبدیلی محض عمارتوں یا نصاب کی سطح تک محدود نہیں بلکہ اس کا مقصد تربیتی ڈھانچے کو صنعتوں کی موجودہ ضروریات سے ہم آہنگ کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اس پورے ماڈل کو روایتی ہنرمندی کے اداروں کی بحالی اور روزگار پر مبنی تربیت کے ایک نئے فریم ورک کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ مزید برآں، ان کا استدلال تھا کہ اگر نوجوانوں کو عالمی معیار کے مطابق تکنیکی تربیت دی جائے تو نہ صرف مقامی صنعتوں کو ہنرمند افرادی قوت ملے گی بلکہ بیرون ملک روزگار کے دروازے بھی کھلیں گے۔
90 فیصد داخلہ شرح اور صنعت پر مبنی کورسز کی اہمیت | Skill Development
وزیر نے کہا کہ نئے قائم کیے گئے ایڈوانسڈ ٹیکنالوجی سینٹرز میں داخلوں کی شرح 90 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ طلبہ اور نوجوانوں میں ہنرمندی پر مبنی تعلیم کے لیے دلچسپی بڑھ رہی ہے۔ ان کے مطابق اس مثبت ردعمل کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ان مراکز میں ایسے کورسز متعارف کرائے گئے ہیں جو صنعتوں کی ضرورت، روزگار کے رجحانات اور عملی تربیت کے تقاضوں کو سامنے رکھ کر تیار کیے گئے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ طلبہ کو روایتی تعلیمی اسناد کے ساتھ تکنیکی مہارتیں بھی حاصل کرنی چاہئیں، کیونکہ آج کی مسابقتی معیشت میں محض ڈگری کافی نہیں سمجھی جاتی۔ ان کے مطابق معیاری ملازمت حاصل کرنے، بہتر تنخواہ پانے اور عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کے لیے عملی ہنر، ٹیکنالوجی سے واقفیت اور جدید تربیت بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
ٹامکام پروگرام، بیرون ملک روزگار اور بجٹ میں 90 کروڑ روپے | Skill Development
ڈاکٹر وویک وینکٹ سوامی نے کہا کہ تلنگانہ اوورسیز مین پاور کمپنی لمیٹڈ، یعنی ٹامکام پروگرام کو ریاست بھر کے نوجوانوں کی جانب سے حوصلہ افزا ردعمل ملا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے بجٹ میں 90 کروڑ روپے مختص کیے ہیں تاکہ نوجوانوں کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ہنرمندی کی تربیت فراہم کی جا سکے اور بیرون ملک روزگار کے امکانات کو مضبوط بنایا جا سکے۔
ان کے مطابق یہ سرمایہ کاری صرف تربیت تک محدود نہیں بلکہ اس کا مقصد نوجوانوں کو ایسے روزگار سے جوڑنا ہے جو بہتر آمدنی، عالمی تجربہ اور پیشہ ورانہ استحکام فراہم کر سکے۔ اسی لیے حکومت ہنرمندی کے فروغ کو روزگار، معیشت اور سماجی ترقی کے ایک مشترکہ ایجنڈے کے طور پر آگے بڑھا رہی ہے۔
تلنگانہ ماڈل کی قومی سطح پر پذیرائی | Skill Development
وزیر محنت نے دعویٰ کیا کہ تلنگانہ روایتی آئی ٹی آئیز کو ایڈوانسڈ ٹیکنالوجی سینٹرز میں تبدیل کرنے کے معاملے میں ایک قومی ماڈل کے طور پر ابھرا ہے، اور مرکزی حکومت نے بھی اس اقدام کو سراہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف ریاستوں کے نمائندوں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو تلنگانہ کے ماڈل کا مطالعہ کرے گی، اور وہ خود اس پینل کی قیادت کر رہے ہیں۔
ان کے مطابق اگر یہ ماڈل مؤثر ثابت ہوتا ہے تو اس سے نہ صرف تلنگانہ کے نوجوانوں کو فائدہ ہوگا بلکہ ملک کی دیگر ریاستیں بھی ہنرمندی اور روزگار کے شعبے میں اسی نوعیت کی اصلاحات اپنا سکتی ہیں۔ پروگرام میں جڑچرلہ کے رکن اسمبلی انیرودھ ریڈی سمیت دیگر عوامی نمائندوں نے بھی شرکت کی اور ریاست میں ہنرمندی پر مبنی تعلیم کے فروغ کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
