Food Poisoning

حیدرآباد:۔ تلنگانہ کے محبوب نگر کے نیو موتی نگر علاقے میں مبینہ طور پر آلودہ کھانا کھانے کے بعد 29 افراد کو اسپتال منتقل کیا گیا، جن میں 17 بچے اور ایک حاملہ خاتون بھی شامل ہیں۔ متاثرہ افراد کی طبیعت اچانک بگڑنے پر انہیں فوری طور پر محبوب نگر گورنمنٹ اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ مزید برآں طبی عملہ تمام مریضوں کی حالت پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔

حکام کے مطابق متاثرہ افراد جمعہ کے روز ایک شادی کی تقریب کا بچا ہوا کھانا کھانے کے بعد بیمار ہوئے۔ یہ کھانا قریبی جھگی بستی کے رہائشیوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ تاہم کھانا کھانے کے کچھ ہی دیر بعد متعدد افراد میں صحت سے متعلق پیچیدگیاں پیدا ہوئیں، جس کے بعد انہیں اسپتال منتقل کیا گیا۔

تحقیقات کا آغاز | Food Poisoning

پولیس اور محکمہ صحت کے حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ مبینہ فوڈ پوائزننگ کی اصل وجہ معلوم کی جا سکے۔ مزید برآں اس بات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا تقسیم کیا گیا کھانا واقعی آلودہ تھا یا متاثرہ افراد کی بیماری کی کوئی اور وجہ تھی۔ چنانچہ تحقیقاتی رپورٹ آنے کے بعد ہی واقعے کی مکمل حقیقت سامنے آسکے گی۔

مریضوں کی عیادت اور علاج | Food Poisoning

سابق وزیر سرینواس گوڑ نے محبوب نگر گورنمنٹ اسپتال پہنچ کر متاثرہ مریضوں کی عیادت کی اور ان کی خیریت دریافت کی۔ انہوں نے ڈاکٹروں کو ہدایت دی کہ تمام مریضوں کو بہترین ممکنہ طبی سہولتیں فراہم کی جائیں اور ان کی صحت یابی پر مسلسل نظر رکھی جائے۔ اسی دوران حکام نے بھی یقین دہانی کرائی کہ اسپتال میں داخل تمام مریضوں کو ضروری علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔