حیدرآباد: وزیر صحت دامودَر راجا نرسمہا نے پیر کے روز سکریٹریٹ میں تلنگانہ کے سرکاری اسپتالوں کی کارکردگی اور موسمی بیماریوں کی صورتحال کا جائزہ اجلاس منعقد کیا۔ اجلاس میں سکریٹری صحت ڈاکٹر کرسٹینا زی چونگٹو اور ڈائریکٹر آف پبلک ہیلتھ ڈاکٹر رویندر نائیک سمیت سینئر عہدیدار شریک ہوئے۔
افسران نے وزیر کو بتایا کہ رواں سال ڈینگی، ملیریا اور ٹائیفائیڈ کے کیسز میں پچھلے دو برسوں کے مقابلے میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ گزشتہ سال جنوری سے ستمبر کے دوران چکن گنیا کے 361 کیسز سامنے آئے تھے، جب کہ اس سال اسی عرصے میں صرف 249 کیسز رپورٹ ہوئے۔ اسی طرح ملیریا کے کیسز 226 سے گھٹ کر 209 ہو گئے، جب کہ ٹائیفائیڈ کے مریض 10,149 سے کم ہو کر 4,600 تک آ گئے۔
صحت کی بہتری کے اقدامات | Seasonal Diseases Decline
وزیر صحت نے رپورٹ پر اطمینان ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ریاست بھر میں موسمی بیماریوں میں کمی ایک حوصلہ افزا علامت ہے۔ تاہم انہوں نے نشاندہی کی کہ گریٹر حیدرآباد سمیت چند اضلاع میں معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس پر انہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ ان علاقوں میں لاروا کنٹرول کارروائیوں کو تیز کیا جائے۔
راجا نرسمہا نے بارش سے متاثرہ اضلاع میں ڈاکٹروں اور طبی عملے کو چوکنا رہنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ بارش کے بعد بیماریوں کے پھیلنے کا امکان بڑھ جاتا ہے، لہٰذا احتیاطی اقدامات پیشگی کیے جائیں۔
مزید برآں، وزیر نے افسران کو موسمی بیماریوں سے متعلق آگاہی مہمات چلانے اور شہریوں کو صفائی اور احتیاطی تدابیر سے باخبر رکھنے کی ہدایت کی۔
عوامی آگاہی اور صفائی مہم | Seasonal Diseases Decline
وزیر صحت نے فیلڈ ٹیموں کو ہدایت دی کہ وہ گھر گھر سروے کریں اور شہریوں کو صفائی اور مچھروں کی افزائش روکنے کے طریقوں سے آگاہ کریں۔ انہوں نے سینئر افسران کو بارش سے متاثرہ اضلاع کے دورے کر کے صفائی مہمات کی نگرانی کی ہدایت بھی دی۔
راجا نرسمہا نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے اطراف صاف ستھرا ماحول برقرار رکھیں اور پانی جمع نہ ہونے دیں۔ انہوں نے کہا کہ موسمی بیماریوں کی علامات ظاہر ہونے پر شہری فوری طور پر سرکاری اسپتالوں سے رجوع کریں، جہاں تمام ضروری سہولیات دستیاب ہیں۔
تلنگانہ میں رواں سال موسمی بیماریوں میں نمایاں کمی نے محکمہ صحت کی کوششوں کو اجاگر کیا ہے۔ تاہم حکام نے زور دیا کہ عوام کی تعاون اور احتیاط ہی اس مثبت رجحان کو برقرار رکھ سکتی ہے۔
