حیدرآباد: حیدرآباد سٹی پولیس کے سائبر کرائم ونگ نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ شہر میں جعلی ڈیجیٹل گرفتاریوں کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ پولیس کے مطابق دھوکہ باز خود کو سرکاری یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کا اہلکار ظاہر کر کے عوام سے رقم اور حساس معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ایسے افراد خوف پھیلا کر شہریوں کو دباؤ میں لیتے ہیں اور سنگین الزامات لگا کر فوری کارروائی کی دھمکی دیتے ہیں۔ اس طریقۂ واردات میں ذہنی دباؤ کو ہتھیار بنایا جا رہا ہے، جس کے باعث کئی لوگ دھوکہ کھا رہے ہیں۔
خوف اور جعلی دستاویزات کا استعمال | Digital Scam
سائبر کرائم حکام کے مطابق جعلساز خود کو پولیس، سی بی آئی، ای ڈی، کسٹمز یا کوریئر کمپنیوں کا نمائندہ ظاہر کرتے ہیں۔ وہ منی لانڈرنگ یا دہشت گردی جیسے الزامات لگا کر گرفتاری، قانونی کارروائی یا بینک اکاؤنٹ منجمد کرنے کی دھمکی دیتے ہیں۔
اپنی بات کو سچ ثابت کرنے کے لیے یہ افراد جعلی ایف آئی آر، وارنٹ گرفتاری اور ریزرو بینک سے منسوب خطوط بھیجتے ہیں۔ اس کے بعد شہریوں کو تصدیق کے نام پر رقم منتقل کرنے کا کہا جاتا ہے، اور بعض اوقات دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ رقم بے گناہی ثابت کرنے کے لیے عدالت میں جمع کرائی جائے گی۔
پولیس کی وضاحت اور عوام کے لیے ہدایات | Digital Scam
پولیس نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی صورت میں ڈیجیٹل طریقے سے گرفتاری عمل میں نہیں آتی اور نہ ہی پولیس یا کوئی سرکاری ادارہ فون پر رقم یا ذاتی معلومات طلب کرتا ہے۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ مشکوک کال موصول ہوتے ہی رابطہ منقطع کریں اور او ٹی پی، آدھار نمبر یا بینک تفصیلات کسی کو فراہم نہ کریں۔
حکام نے شہریوں کو ہدایت دی ہے کہ ایسے کسی بھی واقعے کی فوری اطلاع قومی سائبر کرائم ہیلپ لائن 1930 پر دیں یا سرکاری پورٹل کے ذریعے شکایت درج کریں۔ شواہد کے طور پر کال لاگز، پیغامات اور لین دین کی تفصیلات محفوظ رکھنے کا بھی مشورہ دیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق ہوشیاری اور بروقت تصدیق کے ذریعے مالی نقصان اور شناخت کی چوری سے بچا جا سکتا ہے۔ اس انتباہ کا مقصد عوام کو باخبر رکھنا اور سائبر جرائم کے بڑھتے ہوئے خطرے کو روکنا ہے۔
