حیدرآباد: بھارت راشٹر سمیتی (بی آر ایس) چھوڑ کر کانگریس میں شامل ہوئے خیرت آباد کے رکن اسمبلی دانم ناگیندر نے کہا ہے کہ اگر حالات کا تقاضا ہوا تو وہ استعفیٰ دے کر ضمنی انتخاب کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ وہ ایک بار پھر مضبوط عوامی مینڈیٹ کے ساتھ اسمبلی میں واپس آئیں گے۔
حمایت نگر ڈویژن کے پارٹی کارکنوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دانم ناگیندر نے کہا کہ انہیں ضمنی انتخابات کا کوئی خوف نہیں۔ ان کے مطابق وہ اب تک چھ انتخابات جیت چکے ہیں اور انتخابی چیلنجز نے کبھی ان کے حوصلے کو کمزور نہیں کیا۔
انہوں نے یاد دلایا کہ وہ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ نااہلی سے متعلق مقدمات اور عرضیاں ان کے سیاسی سفر کو روک نہیں سکتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قانونی کارروائیاں انہیں سیاست سے پیچھے ہٹنے پر مجبور نہیں کر سکتیں۔
کارکنان ہی اصل طاقت | By Election
دانم ناگیندر نے اپنے پُراعتماد مؤقف کی وجہ پارٹی کارکنان کو قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ کارکنان کی حمایت ہی ان کی ہمت اور طاقت کا سرچشمہ ہے۔ اسی اعتماد کے باعث وہ ضرورت پڑنے پر استعفیٰ دینے اور ضمنی انتخاب لڑنے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ پارٹی کارکنان ہی انہیں بڑے فیصلے لینے کا حوصلہ دیتے ہیں اور یہی حمایت انہیں بلا جھجھک انتخابی میدان میں اترنے کا اعتماد فراہم کرتی ہے۔
دانم ناگیندر نے یہ بھی یاد دلایا کہ وہ اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ اگر وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی استعفیٰ دینے کو کہیں تو وہ اس کے لیے بھی تیار ہیں۔ فی الحال بھارت راشٹر سمیتی سے کانگریس میں شامل ہونے والے دس ارکان اسمبلی کے خلاف نااہلی کی درخواستیں زیر التوا ہیں، جس کے باعث ان کے بیان نے تلنگانہ کے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
