Read in English  
       
Political Speculation

حیدرآباد: کانگریس کے رکن اسمبلی مل ریڈی رنگا ریڈی نے منگل کے روز کہا کہ اگر تلنگانہ جاگروتی کی صدر کے کویتا کانگریس میں شامل ہو جائیں تو یہ کوئی حیران کن بات نہیں ہوگی۔ ان کے اس بیان کے بعد ریاستی سیاست میں ایک بار پھر قیاس آرائیوں کا بازار گرم ہو گیا ہے۔

بی آر ایس کے کوٹے سے منتخب قانون ساز کونسل کی رکنیت سے حالیہ استعفے کے بعد کے کویتا کے سیاسی مستقبل پر مسلسل بحث جاری ہے۔ مختلف حلقوں میں یہ چہ مگوئیاں ہیں کہ وہ یا تو نئی سیاسی جماعت بنانے جا رہی ہیں یا پھر کانگریس کا رخ کر سکتی ہیں، جس نے سیاسی ماحول کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے۔

مل ریڈی رنگا ریڈی نے ماضی کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ دانم ناگیندر اور کڈیم سری ہری کی کانگریس میں شمولیت بھی ابتدا میں غیر متوقع سمجھی جا رہی تھی۔ ان کے مطابق اسی تناظر میں اگر کے کویتا بھی کانگریس میں آئیں تو کسی کو حیرت نہیں ہونی چاہیے۔

کابینہ میں شمولیت اور پارٹی پیغام | Political Speculation

مل ریڈی رنگا ریڈی، جو خود کابینہ میں جگہ کے خواہاں ہیں، نے کہا کہ اگر انہیں وزیر نہ بنایا گیا تو یہ نقصان ان کا نہیں بلکہ پارٹی کا ہوگا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ دو کروڑ آبادی والے ضلع کے باوجود اب تک کابینہ میں اس ضلع کی نمائندگی نہیں ہو سکی، جو ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔

مقامی انتظامی امور پر بات کرتے ہوئے انہوں نے رنگا ریڈی ضلع کا نام تبدیل کرنے کی افواہوں کو مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نئی بلدیات کے قیام کی وہ حمایت کرتے ہیں، مگر ضلع کے موجودہ ڈھانچے میں تبدیلی کی ضرورت نہیں۔

رئیل اسٹیٹ، بھارت فیوچر سٹی اور پرانا تنازع | Political Speculation

مل ریڈی رنگا ریڈی نے مجوزہ بھارت فیوچر سٹی کے اطراف رئیل اسٹیٹ سرگرمیوں میں اضافے کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق زمین کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں اور لوگ اب فروخت پر آمادہ نہیں، جو مستقبل کی معاشی سرگرمیوں کا اشارہ ہے۔

انہوں نے سابق وزیر اعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ کے ساتھ اپنے پرانے سیاسی مقابلے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ فارما سٹی منصوبے کی مخالفت کی وجہ سے انہیں انتخابی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے مطابق اگر یہ منصوبہ مکمل ہو جاتا تو پچاس کلومیٹر کے دائرے میں آلودگی پھیلنے کا خدشہ تھا، جو عوامی مفاد کے خلاف ہوتا۔