Housing Justice
حیدرآباد ۔ بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) کے رہنما اور رکن قانون ساز کونسل داسوجو سراون نے خیریت آباد میں 2 بی ایچ کے مکانات کی تقسیم کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے مکمل اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غریب خاندانوں اور زمین فراہم کرنے والے اصل مستحقین کو ان کے حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے۔
جمعہ کے روز تلنگانہ بھون میں مستحقین اور مقامی رہائشیوں سے خطاب کرتے ہوئے داسوجو سراون نے کانگریس حکومت اور خیریت آباد کے رکن اسمبلی دانم ناگیندر کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ جن خاندانوں نے سرکاری منصوبے کے لیے زمین فراہم کی تھی، انہیں دیے گئے وعدوں کو پورا نہیں کیا گیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ خیریت آباد میں آئی میکس تھیٹر کے سامنے 210 ڈبل بیڈ روم مکانات مقامی خاندانوں سے زمین حاصل کرنے کے بعد تعمیر کیے گئے تھے۔ اس وقت زمین مالکان کو یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ انہیں رہائشی فوائد اور مکانات کی الاٹمنٹ میں ترجیح دی جائے گی۔
مکانات کی تقسیم کے عمل پر اعتراضات | Housing Justice
داسوجو سراون نے الزام لگایا کہ حکام نے زمین فراہم کرنے والے خاندانوں سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری نہیں کی۔ ان کے مطابق متعدد حقیقی مستحقین آج بھی مکانات کے منتظر ہیں جبکہ سیاسی تعلقات رکھنے والے افراد کو ترجیحی بنیادوں پر فائدہ پہنچایا گیا۔
انہوں نے ان الاٹمنٹس کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انہیں منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔ مزید برآں انہوں نے زور دیا کہ منصوبے کے لیے زمین دینے والے خاندانوں کو سب سے پہلے مکانات الاٹ کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ پورے عمل کو شفاف بنانے کے لیے حق اطلاعات قانون کے تحت تمام تفصیلات عوام کے سامنے لائی جانی چاہئیں۔ ان کے مطابق عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ مکانات کن افراد کو اور کن بنیادوں پر فراہم کیے گئے۔
داسوجو سراون کا کہنا تھا کہ اگر شفافیت کو یقینی نہ بنایا گیا تو عوام کے اعتماد کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ لہٰذا حکومت کو تمام ریکارڈ منظر عام پر لا کر شکوک و شبہات کا خاتمہ کرنا چاہیے۔
متاثرہ خاندانوں کیلئے انصاف کا مطالبہ | Housing Justice
بی آر ایس رہنما نے بعض ایسے خاندانوں کا حوالہ بھی دیا جنہوں نے رہائشی منصوبے کے لیے اپنی قیمتی زمین حکومت کے حوالے کی تھی۔ ان کے مطابق ایک خاندان نے 120 مربع گز کے 2 پلاٹس اس امید پر دیے کہ انہیں مستقبل میں رہائش فراہم کی جائے گی۔
انہوں نے ایک معذور خاتون کا بھی ذکر کیا جس نے مبینہ طور پر حکام کی یقین دہانیوں پر اپنی زمین حوالے کر دی تھی۔ تاہم ان کے بقول ایسے افراد کو آج تک مکانات فراہم نہیں کیے گئے۔
داسوجو سراون نے کہا کہ جن خاندانوں نے سرکاری منصوبے کی تکمیل میں اپنا حصہ ڈالا، انہیں نظر انداز کرنا ایک سنگین ناانصافی ہے۔ مزید یہ کہ انہوں نے الزام لگایا کہ مقامی حکام اور بعض سیاسی شخصیات نے مکانات کی تقسیم کے دوران کانگریس کارکنوں، حامیوں اور درمیانی کردار ادا کرنے والے افراد کو فائدہ پہنچایا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر متاثرہ خاندانوں کے مسائل حل نہ کیے گئے تو بڑے پیمانے پر احتجاجی تحریک شروع کی جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو فوری اصلاحی اقدامات کرتے ہوئے تمام اہل اور مستحق خاندانوں کو انصاف فراہم کرنا چاہیے۔
داسوجو سراون نے زور دیا کہ خیریت آباد 2 بی ایچ کے ہاؤسنگ منصوبے کا اصل مقصد غریب اور بے گھر خاندانوں کو رہائش فراہم کرنا تھا۔ چنانچہ اس مقصد کو برقرار رکھنے کے لیے شفافیت، جوابدہی اور انصاف کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔
