Read in English  
       
School Payments

حیدرآباد: قانون ساز کونسل کے چیئرمین گُٹّا سُکھیندر ریڈی نے منگل کے روز وقفہ سوال کے دوران کہا کہ ’مناؤورو منابڈی ‘ اسکیم کے تحت 360 کروڑ روپے کے کام مکمل کیے جا چکے ہیں، مگر ٹھیکیداروں کو اب تک واجب الادا رقم ادا نہیں کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ ریاست بھر میں سرکاری اسکولوں کی مرمتی اور ترقیاتی سرگرمیاں ٹھپ ہو کر رہ گئی ہیں۔ ان کے مطابق، ان کے اپنے گاؤں میں بھی اسکول کا کام ادھورا چھوڑ دیا گیا، جس کے باعث سردی کے موسم میں بچوں کو کھلے میدان میں بیٹھنا پڑ رہا ہے۔

گُٹّا سُکھیندر ریڈی نے بتایا کہ وہ گزشتہ ایک سال سے پرنسپل سیکریٹری یوگیتا رانا، نائب وزیر اعلیٰ بھٹی وکرامارکا اور وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کو ادائیگیوں میں تاخیر کے بارے میں آگاہ کرتے آ رہے ہیں، لیکن حکومت کی جانب سے کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے دیگر کئی مدات میں ادائیگیاں جاری کیں، مگر مناؤورو منابڈی اسکیم کا نام بدل کر امّاں آدرش پاٹھ شالا رکھنے اور اسے مائننگ سیس سے جوڑنے کے بعد فنڈز کی رفتار مزید سست ہو گئی۔ ان کے مطابق، جو محدود ادائیگیاں پہلے کی جا رہی تھیں، وہ بھی اب مکمل طور پر رک چکی ہیں۔

داخلہ دعوے مشکوک | School Payments

قانون ساز کونسل کے چیئرمین نے کہا کہ سرکاری اسکولوں میں طلبہ کے ڈراپ آؤٹ کی شرح پہلے ہی بڑھ چکی ہے۔ ان کے مطابق، تعلیمی سال 2024-25 کے اعداد و شمار کے مطابق سرکاری اسکولوں میں 18.5 لاکھ طلبہ زیر تعلیم ہیں، جبکہ نجی اسکولوں میں یہ تعداد 36 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔

انہوں نے سرکاری دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ رواں سال تین لاکھ نئے طلبہ نے سرکاری اسکولوں میں داخلہ لیا۔ حقیقت میں، ان کے بقول، 30 ہزار نئے طلبہ بھی داخل نہیں ہوئے۔

فوری فنڈز کی ضرورت | School Payments

گُٹّا سُکھیندر ریڈی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ مناؤورو منابڈی اسکیم کے تحت بقایا ادائیگیوں کی فوری منظوری ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق، بروقت فنڈز کی فراہمی کے بغیر نہ تو ادھورے اسکولی کام مکمل ہو سکتے ہیں اور نہ ہی سرکاری تعلیمی نظام پر عوام کا اعتماد بحال ہو سکتا ہے۔