Read in English  
       
Investment Fraud

حیدرآباد ۔ ونستھلی پورم پولیس نے ایک بڑے سرمایہ کاری فراڈ کیس میں ایک خاتون کو گرفتار کر لیا ہے، جس پر جعلی رئیل اسٹیٹ اور چٹ فنڈ اسکیموں کے ذریعے تقریباً 6.5 کروڑ روپے اکٹھا کرنے کا الزام ہے۔ تاہم پولیس کے مطابق اس کارروائی کے بعد مزید متاثرین سامنے آنے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

مزید برآں، پولیس نے ملزمہ کی شناخت 48 سالہ بدّم جیوتی کے طور پر کی ہے جو وانستھلی پورم کے کمالہ نگر کی رہائشی ہے، جبکہ اس کا تعلق اصل میں کوہیڑا، عبد اللہ پورمیٹ منڈل سے بتایا گیا ہے۔ اس کیس نے مقامی سطح پر سرمایہ کاری کے نام پر ہونے والی دھوکہ دہی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

دھوکہ دہی کا طریقہ کار اور وعدے | Investment Fraud

ونستھلی پورم کے سرکل انسپکٹر ایس روی بابو کے مطابق ملزمہ نے خود کو رئیل اسٹیٹ کاروباری ظاہر کرتے ہوئے سرمایہ کاری پر 10 فیصد تک منافع دینے کا وعدہ کیا۔ مزید یہ کہ اس نے اپنے جاننے والوں کے درمیان چٹ اسکیمیں بھی چلائیں، جس سے لوگوں کا اعتماد حاصل کیا گیا۔

ابتدائی مرحلے میں ملزمہ نے وعدے کے مطابق منافع اور سود ادا کیا، جس کے باعث کئی افراد اس پر بھروسہ کرتے ہوئے بڑی رقوم سرمایہ کاری میں لگاتے گئے۔ تاہم بعد میں یہی اعتماد متاثرین کے لیے نقصان کا سبب بنا۔

متاثرین کی شکایات اور پولیس کارروائی | Investment Fraud

پولیس کے مطابق 2020 سے اب تک ملزمہ نے ونستھلی پورم علاقے میں تقریباً 10 افراد سے 6.5 کروڑ روپے سے زائد رقم جمع کی۔ لیکن بعد میں اس نے ادائیگیاں بند کر دیں اور سرمایہ کاروں سے رابطہ بھی ختم کر دیا، جس کے بعد متاثرین کو دھوکہ دہی کا احساس ہوا۔

دریں اثنا، متاثرین نے پولیس سے رجوع کیا جس پر مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کی گئیں۔ مزید برآں، منگل کی رات پولیس نے ملزمہ کو گرفتار کر لیا، جبکہ تفتیش کے دوران اس نے مزید افراد سے اسی طرز پر رقم لینے کا اعتراف بھی کیا۔

اسی دوران، یہ تحقیقات ایل بی نگر زون کی ڈی سی پی بی انورادھا اور ونستھلی پورم کے اے سی پی پی کاشی ریڈی کی نگرانی میں انجام دی گئیں۔ بعد ازاں ملزمہ کو عدالت میں پیش کیا گیا جہاں سے اسے عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا۔

آخر میں، حکام کا کہنا ہے کہ اس کیس کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور ممکنہ طور پر متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے، لہٰذا عوام کو سرمایہ کاری کے معاملات میں احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔