Read in English  
       
Free Breakfast

حیدرآباد: تلنگانہ کے نائب وزیر اعلیٰ ملو بھٹی وکرامارکا نے کہا ہے کہ ریاستی کابینہ وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کے ساتھ مل کر سرکاری اسکولوں کے تمام طلبہ کے لیے مفت ناشتہ اسکیم متعارف کرانے کے امکان پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ تاہم اس فیصلے کا انحصار مالی استطاعت پر ہوگا۔ اس بیان نے ریاست میں تعلیمی اور غذائی پالیسی پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

انہوں نے یہ بات رنگا ریڈی ضلع کے موگیلی گڈہ گاؤں میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کے دوران کہی، جو موگیلی گڈہ ہائی اسکول کی 150ویں سالگرہ کے موقع پر منعقد ہوا۔ ان کے مطابق یہ اسکیم پہلے ہی وزیر اعلیٰ کے حلقہ انتخاب میں آزمائشی طور پر نافذ کی جا رہی ہے۔ مزید یہ کہ وسائل دستیاب ہونے کی صورت میں اسے پورے تلنگانہ میں نافذ کرنے کا ارادہ ہے۔

غذائیت اور تعلیم | Free Breakfast

ملو بھٹی وکرامارکا نے بچوں کی غذائیت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ابتدائی عمر میں غذائی کمی جسمانی اور ذہنی نشوونما کو شدید متاثر کرتی ہے۔ اسی لیے حکومت ان رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے عملی فلاحی اقدامات پر غور کر رہی ہے۔ چنانچہ مفت ناشتہ اسکیم کو تعلیمی معیار بہتر بنانے کا ایک مؤثر ذریعہ سمجھا جا رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یکساں تعلیمی نظام سے سماجی ہم آہنگی فروغ پائے گی۔ ان کے مطابق جب بچے ابتدا سے ایک ساتھ تعلیم حاصل کرتے ہیں تو ذات، مذہب اور معاشی فرق خود بخود ختم ہو جاتا ہے۔ اس طرح باہمی احترام اور اتحاد پروان چڑھتا ہے۔

بڑے تعلیمی منصوبے | Free Breakfast

نائب وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ اسی وژن کے تحت ینگ انڈیا انٹیگریٹڈ ریزیڈنشل اسکول قائم کیے جا رہے ہیں۔ ہر اسکول 25 ایکڑ رقبے پر تعمیر ہوگا اور اس پر 200 کروڑ روپئے خرچ کیے جا رہے ہیں۔ اس وقت 100 حلقوں میں تعمیراتی کام شروع ہو چکا ہے، جس پر مجموعی طور پر 20,000 کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری ہو رہی ہے۔

انہوں نے تعلیم اور صحت کو ریاستی ترقی کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہنرمند افرادی قوت کے بغیر معاشی مضبوطی ممکن نہیں۔ اسی مقصد کے لیے حکومت مفت تعلیم اور مفت علاج کو ترجیح دے رہی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے گزشتہ سال موگیلی گڈہ ہائی اسکول کے لیے 10 کروڑ روپئے منظور کیے تھے، جن پر ترقیاتی کام تیزی سے جاری ہے۔

آخر میں ملو بھٹی وکرامارکا نے ماضی کی حکومتوں پر آئی ٹی آئی اداروں کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت ان اداروں کو جدید مشینری اور نئے نصاب کے ساتھ اپ گریڈ کر رہی ہے۔ نتیجتاً تمام حلقوں میں آئی ٹی آئی کو ایڈوانسڈ ٹیکنالوجی سینٹرز میں تبدیل کیا جا رہا ہے تاکہ نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع مل سکیں۔