Read in English  
       
MoU Investment Execution

حیدرآباد ۔ تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی نے کمپنیوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ریاست میں کیے گئے مفاہمتی معاہدوں پر فوری عمل درآمد کریں اور حکام کو تمام ضروری سہولیات فراہم کرنے کی تاکید کی۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری کے وعدوں کو عملی شکل دینا ریاستی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔

انہوں نے عالمی پلیٹ فارمز بشمول داوس عالمی اقتصادی فورم اور تلنگانہ رائزنگ گلوبل سمٹ میں طے پانے والے معاہدوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔ تاہم اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں سینئر حکام کے ساتھ تفصیلی تبادلہ خیال بھی کیا گیا تاکہ عمل درآمد میں درپیش مسائل کو حل کیا جا سکے۔

اجلاس میں وزیر صنعت و آئی ٹی ددڈیلا سریدھر بابو، چیف سیکریٹری کے رام کرشنا راؤ اور دیگر افسران شریک ہوئے۔ مزید برآں وزیر اعلیٰ نے منصوبوں کی رفتار بڑھانے کے لیے متعدد عملی تجاویز پیش کیں۔

سرمایہ کاری معاہدوں کی نگرانی اور حکمت عملی | MoU Investment Execution

وزیر اعلیٰ نے حکام کو ہدایت دی کہ کمپنیوں کو 3 زمروں میں تقسیم کیا جائے تاکہ مؤثر حکمت عملی اختیار کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ مستحکم اور بڑی کمپنیوں کو ترجیح دی جائے تاکہ منصوبوں پر تیزی سے عمل ممکن ہو۔

اسی دوران حکام نے پہلے سے شروع شدہ سرمایہ کاری منصوبوں کی تفصیلات پیش کیں، جبکہ زیر التوا تجاویز اور مختلف علاقوں میں زمین کی فراہمی سے متعلق معلومات بھی شیئر کیں، جن میں بھارت فیوچر سٹی شامل ہے۔ مزید یہ کہ زمین کے حصول کے تمام باقی کام جلد مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی۔

بنیادی ڈھانچہ اور ڈیجیٹل نگرانی کا نظام | MoU Investment Execution

وزیر اعلیٰ نے مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے بنیادی ڈھانچے کی پیشگی منصوبہ بندی پر زور دیا۔ انہوں نے ڈیٹا سینٹرز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایس ٹی پیز سے صاف شدہ پانی کے استعمال کی تجویز بھی دی۔ اسی طرح فیوچر سٹی میں جاری کاموں کو تیز کرنے اور باقاعدہ نگرانی کی ہدایت دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ جن کمپنیوں نے ابتدائی مراحل مکمل کر لیے ہیں، ان کے ساتھ فوری رابطہ کیا جائے اور سنگ بنیاد کی تقریبات بغیر تاخیر منعقد کی جائیں۔ مزید برآں انہوں نے ایک ریئل ٹائم ڈیش بورڈ بنانے کی ہدایت دی جس میں سرمایہ کاری، مدت، روزگار کے مواقع اور عمل درآمد کی صورتحال کو مسلسل مانیٹر کیا جا سکے۔

وزیر اعلیٰ نے ایک سینئر آئی اے ایس افسر کی نگرانی میں خصوصی مانیٹرنگ نظام قائم کرنے کی ہدایت بھی دی۔ اسی دوران انہوں نے ٹیر 2 اور ٹیر 3 شہروں میں آئی ٹی ٹاورز کی پیش رفت کا جائزہ لیا، جبکہ جائیکا فنڈنگ سے جاری منصوبوں کا بھی معائنہ کیا۔ آخرکار انہوں نے عمل درآمد کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ضروری اقدامات تجویز کیے۔