حیدرآباد: انٹرنیشنل کرپٹو کرنسی کمپنی کے خلاف سائبر حملے کے ایک اہم معاملے میں حیدرآباد پولیس نے مبینہ طور پر ہیکرز کی مدد کرنے والے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس کارروائی پر کمپنی کے چیف ایگزیکٹو افسر نے پولیس کی تیز اور مؤثر کارروائی کو سراہا ہے۔ حکام کے مطابق گرفتاری کے بعد تحقیقات کو مزید آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
پس منظر کے طور پر، حالیہ دنوں میں کرپٹو کمپنی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ حملہ آوروں نے صارفین سے متعلق حساس معلومات حاصل کرنے کا دعویٰ کیا۔ بعد ازاں اسی ڈیٹا کی بنیاد پر بھاری رقم بطور تاوان طلب کی گئی۔
کمپنی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سائبر دھوکہ دہی اور ڈیٹا چوری کے خلاف ان کی پالیسی نہایت سخت ہے۔ اسی پالیسی کے تحت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھا جاتا ہے تاکہ ایسے جرائم کی روک تھام ہو سکے۔
پولیس کی فوری کارروائی | Coinbase Cybercrime
کمپنی کے چیف ایگزیکٹو افسر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر پیغام جاری کرتے ہوئے بتایا کہ حیدرآباد پولیس نے سائبر حملے میں ملوث ملزم کو ٹریک کر کے گرفتار کیا۔ انہوں نے پولیس فورس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہیکرز کی مدد کرنے والوں کو اسی انجام کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
ان کے مطابق، کمپنی مستقبل میں بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر سائبر جرائم کے خلاف کارروائی جاری رکھے گی۔ اس تعاون کا مقصد صارفین کے ڈیٹا کا تحفظ اور ڈیجیٹل نظام کو محفوظ بنانا ہے۔
تحقیقات کا دائرہ وسیع | Coinbase Cybercrime
پولیس حکام نے فی الحال تحقیقات کی مزید تفصیلات جاری نہیں کیں۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ تفتیشی ٹیمیں ہیکنگ نیٹ ورک کے دیگر ممکنہ ارکان کی شناخت اور گرفتاری کے لیے کام کر رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس کارروائی سے سائبر جرائم پیشہ افراد کو واضح پیغام ملا ہے کہ ڈیجیٹل دنیا میں کیے جانے والے جرائم بھی قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکتے۔
We have zero tolerance for bad behavior and will continue to work with law enforcement to bring bad actors to justice.
Thanks to the Hyderabad Police in India, an ex-Coinbase customer service agent was just arrested. Another one down and more still to come.
— Brian Armstrong (@brian_armstrong) December 26, 2025
