حیدرآباد: تلنگانہ اسٹیٹ لیگل سروسز اتھارٹی نے پیر کے روز ریاست بھر میں سڑک حادثات میں مسلسل اضافے کے پیش نظر روڈ سیفٹی مہم 2026 کا آغاز کر دیا۔ اس مہم کا مقصد عوام، طلبہ اور نوجوانوں میں ٹریفک قوانین کے بارے میں شعور بیدار کرنا ہے۔
یہ مہم 5 جنوری سے 9 جنوری تک پوری ریاست میں چلائی جائے گی۔ اس اقدام کا آغاز تلنگانہ ہائی کورٹ کے ایگزیکٹو چیئرمین کی ہدایت پر کیا گیا، تاکہ موٹر وہیکلز ایکٹ کے تحت محفوظ سفری رویّوں کو فروغ دیا جا سکے۔
تعلیمی اداروں سے بیداری کی شروعات | Road Safety Abhiyan
مہم کا باضابطہ افتتاح کنڈن باغ کے ایک تعلیمی ادارے میں کیا گیا، جہاں آگاہی پوسٹر جاری کیے گئے اور روڈ سیفٹی حلف دلایا گیا۔ اسی کے ساتھ ضلع اور منڈل سطح پر لیگل سروسز اتھارٹیز نے اسکولوں اور کالجوں میں آگاہی پروگرام شروع کر دیے ہیں۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پولیس کے ایک اعلیٰ افسر نے کہا کہ ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل درآمد حادثات میں نمایاں کمی لا سکتا ہے۔ انہوں نے والدین کو بھی خبردار کیا کہ نابالغ بچوں کو گاڑیاں نہ دیں، کیونکہ قانون کی خلاف ورزی پر جرمانے عائد کیے جاتے ہیں۔
حادثات کے اعداد و شمار تشویشناک | Road Safety Abhiyan
مہم کے مقصد پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا گیا کہ یہ مہم پورے تلنگانہ میں چلائی جائے گی، اسی لیے ابتدا تعلیمی ادارے سے کی گئی تاکہ کم عمری میں ہی سڑک نظم و ضبط کی عادت ڈالی جا سکے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 میں ریاست میں تقریباً 24,826 سڑک حادثات ریکارڈ ہوئے، جو 2024 کے مقابلے میں 5.6 فیصد زیادہ ہیں۔ ان حادثات میں لگ بھگ 6,500 افراد جان سے گئے جبکہ تقریباً 14,768 افراد زخمی ہوئے۔ حکام کے مطابق گاڑیوں کی تعداد میں اضافہ اور بغیر لائسنس نابالغ ڈرائیونگ اس کی بڑی وجوہات ہیں۔
مزید کہا گیا کہ نوجوانوں میں تیز رفتاری کے باعث پیش آنے والے حالیہ واقعات انتہائی تشویشناک ہیں۔ اس کے علاوہ کئی حادثات رپورٹ نہ ہونے کے سبب مسئلہ مزید سنگین ہو جاتا ہے۔
اتھارٹی کے رکن سکریٹری نے ڈرائیوروں کے لیے بنیادی حفاظتی اقدامات پر زور دیا۔ انہوں نے بتایا کہ مہلک حادثات میں سر پر چوٹ ایک بڑی وجہ بنتی ہے، اس لیے دو پہیہ گاڑی چلانے والوں کو ہیلمٹ پہننے، موبائل فون کے استعمال اور نشے کی حالت میں ڈرائیونگ سے گریز کی تلقین کی گئی۔
آخر میں بتایا گیا کہ یہ مہم تمام اسکولوں اور کالجوں تک پہنچائی جائے گی، جس میں پیرا لیگل رضاکار، پینل وکلا اور لیگل سروسز کا عملہ بھرپور حصہ لے گا۔
