Inclusive Employment
حیدرآباد ۔ حیدرآباد ڈیزاسٹر ریسپانس اینڈ ایسیٹ پروٹیکشن ایجنسی (ہائیڈرا) کی جانب سے فراہم کی گئی ملازمتیں تلنگانہ کی خواجہ سرا (مخنث) برادری کے لیے نئی امید، مالی استحکام اور سماجی شناخت کا ذریعہ بن رہی ہیں۔ اس اقدام نے متعدد افراد کو نہ صرف باعزت روزگار فراہم کیا بلکہ انہیں معاشرے میں باوقار مقام حاصل کرنے کا موقع بھی دیا ہے۔
ہائیڈرا نے مجموعی طور پر 16 خواجہ سرا افراد کو ملازمت دی ہے جن میں 11 ٹرانس ویمن اور 5 ٹرانس مین شامل ہیں۔ انہیں “ہائیڈرا ایگل ٹیم” کا حصہ بنایا گیا ہے جو مختلف فیلڈ آپریشنز اور عوامی رابطہ سرگرمیوں میں ادارے کی معاونت کر رہی ہے۔
ٹیم کے ارکان تجاوزات کے خلاف کارروائیوں کے دوران حکام کے ساتھ کام کرتے ہیں اور جھیلوں، نالوں، پارکوں اور سرکاری اراضی کے تحفظ کی کوششوں میں حصہ لیتے ہیں۔ ان ملازمین کا کہنا ہے کہ اس روزگار نے انہیں صرف آمدنی ہی نہیں بلکہ ایک نئی شناخت اور مقصد بھی فراہم کیا ہے۔
سرکاری فرائض نے بڑھایا اعتماد اور شناخت | Inclusive Employment
حکام کے مطابق ایگل ٹیم کے ارکان متعدد اہم کارروائیوں میں فعال کردار ادا کر چکے ہیں۔ انہوں نے سنگاریڈی ضلع کے امین پور منڈل کے آئیلاپور علاقے میں 862 ایکڑ سرکاری اراضی کے تحفظ کی مہم میں حصہ لیا۔
مزید برآں، ٹیم نے حالیہ دنوں میں مادھاپور کے عید الکنٹہ علاقے کے تحفظ سے متعلق آپریشنز میں بھی خدمات انجام دیں۔ ان کی ذمہ داریوں میں مقامی رہائشیوں سے بات چیت، متاثرہ خواتین سے رابطہ اور حکام و عوام کے درمیان رابطہ کاری شامل ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ٹیم کے ارکان کئی مواقع پر کشیدگی کم کرنے اور مؤثر رابطے قائم کرنے میں مددگار ثابت ہوئے ہیں۔ ان کے صبر، تحمل اور عوامی مسائل کو سمجھنے کی صلاحیت کو مختلف کارروائیوں میں مثبت ردعمل کی ایک اہم وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
معاشی خودمختاری سے سماجی قبولیت تک | Inclusive Employment
ہائیڈرا میں خدمات انجام دینے والے کئی خواجہ سرا ملازمین اب اپنے خاندانوں کی مالی معاونت بھی کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق مستقل آمدنی اور سماجی قبولیت نے ان کی زندگیوں میں نمایاں بہتری پیدا کی ہے۔
گایتری، جو ایگل ٹیم کی ایک رکن ہیں، نے کہا کہ ان کے لیے عزت پیسے سے زیادہ اہم ہے۔ ان کے مطابق ہائیڈرا کی وردی پہننا انہیں فخر اور اعتماد کا احساس دلاتا ہے اور یہ ثابت کرتا ہے کہ مساوی مواقع فراہم کیے جائیں تو خواجہ سرا افراد ہر شعبے میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔
روچیتا نے کہا کہ ہائیڈرا میں کام کرنے سے انہیں ایک منفرد شناخت ملی ہے اور وہ عوامی اثاثوں اور قدرتی وسائل کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔ دوسری جانب تنشی رائے نے کہا کہ ماضی میں روزگار کی تلاش کے دوران خواجہ سرا افراد کو اکثر تمسخر اور مسترد کیے جانے کا سامنا کرنا پڑتا تھا، تاہم اب سرکاری وردی میں فرائض انجام دیتے دیکھ کر لوگ ان کے ساتھ احترام سے پیش آتے ہیں۔
اس کے نتیجے میں یہ اقدام نہ صرف روزگار کی فراہمی بلکہ سماجی شمولیت اور بااختیار بنانے کی ایک مؤثر مثال بن کر سامنے آیا ہے، جس سے خواجہ سرا برادری کے کئی افراد کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی رونما ہو رہی ہے۔
